کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان جو دجال سے پہلے ہو گی اور جو شخص اس سے نجات پا لے گا وہ نجات پا لے گا
عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ ، فَقَالَ : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ " . ذَكَرَ كَلِمَةً . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ” ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کر رہے تھے ، آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے جب آپ بیدار ہوئے ، تو آپ کا رنگ سرخ ہو رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے بارے میں مجھے اس کی بجائے اور چیز کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ۔ اس کے بعد آپ نے ایک کلمہ ذکر کیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - مَوْتِي ، وَالدَّجَّالِ ، وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا ، اس نے نجات پا لی ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا : میری موت ، دجال اور اس خلیفہ کا قتل ہونا جو حق پر جما ہوا ہو ، اور وہ دینے والا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ربیعہ بن لقیط کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ربیعہ بن لقیط کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ نَجَا مِنْهَا نَجَا : مَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ مُؤْمِنٍ فَقَدْ نَجَا ، وَمَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ خَلِيفَةٍ يُقْتَلُ مَظْلُومًا وَهُوَ مُصْطَبِرٌ يُعْطِي الْحَقَّ مِنْ نَفْسِهِ فَقَدْ نَجَا ، وَمَنْ نَجَا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ فَقَدْ نَجَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان سے نجات پا لے گا وہ نجات پا لے گا ، جو شخص کسی مومن کے قتل کے وقت نجات پا لے ، تو اس نے نجات پا لی ، جو شخص کسی خلیفہ کے قتل کے وقت نجات پا لے ، جسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور وہ خلیفہ صبر کرنے والا ہو اور وہ اپنی ذات کی طرف سے حق کی ادائیگی کرتا ہو ، تو ایسا شخص بھی نجات پا لے گا ، اور جو شخص دجال کے فتنے سے نجات پا لے گا ، اس نے بھی نجات پا لی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مصری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مصری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَأَنَا لِفِتْنَةِ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا ، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں دجال کے فتنے کے علاوہ ایک فتنے کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ، اور دجال سے پہلے والے اس فتنے سے جو بھی شخص نجات پا لے گا ، وہ نجات پا لے گا ، اور جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے چھوٹا یا بڑا جو بھی فتنہ بنا ہے وہ دجال کے فتنے کے لئے ہی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔