کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیامت سے پہلے آنے والے کذابین ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویداروں ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12481
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ ، مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں کذاب اور دجال ہوں گے جو ستائیس ہوں گے ، جن میں سے چار عورتیں ہوں گی اور میں انبیاء کرام کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3374) اخرجه احمد فى المسند (396/5)»
حدیث نمبر: 12482
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ شَيْئًا . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ خَطِيبًا فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ وَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ [ إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، [ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ] رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ مسیلمہ کے بارے میں بکثرت بات کیا کرتے تھے ، یہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے کی بات ہے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! یہ شخص جس کا تم بکثرت ذکر کرتے ہو اس کے بارے میں بات یہ ہے کہ یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے ، جو قیامت سے پہلے نکلیں گے ، اور ہر شہر میں دجال کا رعب پہنچ جائے گا ، صرف مدینہ منورہ میں نہیں پہنچے گا ، کیونکہ اس کے ہر ایک راستے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، جو اس شہر سے دجال کے رعب کو پرے کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12483
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ ، مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ ، وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " ، قَالَ جَابِرٌ : وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے ، جن میں سے ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا شخص ہے ، ان میں سے ایک صنعاء کا رہنے والا عنسی ہے ، ان میں سے ایک حمیر والا شخص ہے ، اور ان میں سے ایک دجال ہو گا ، جو ان میں سب سے بڑا فتنہ ہو گا ۔ “ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعض حضرات نے یہ الفاظ نقل کے ہیں ، تیس کے قریب کذاب ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12483
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3375) اخرجه احمد فى المسند (345/3)»
حدیث نمبر: 12484
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنِ الْمُخْتَارِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ دَجَّالًا كَذَّابًا "
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے پاس اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا ، اس نے انہیں مختار کے بارے میں بتانا شروع کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جس طرح تم بیان کر رہے ہو ، اگر واقعی ایسا ہے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے تیس دجال ، کذاب ہوں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12484
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (117/2)»
حدیث نمبر: 12485
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نَعِمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ - شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ - قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - وَأَنَا عِنْدَهُ - عَنِ الْمُتْعَةِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِقِصَّةِ الْمُتْعَةِ وَمَا بَعْدَهَا ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ الدَّجَّالُ ، وَبَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " . قُلْنَا : مَا آيَتُهُمْ ؟ قَالَ : " أَنْ يَأْتُوكُمْ بِسُنَّةٍ لَمْ تَكُونُوا عَلَيْهَا يُغَيِّرُوا بِهَا سُنَّتَكُمْ وَدِينَكُمْ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاجْتَنِبُوهُمْ وَعَادُوهُمْ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعم ، یہاں ابوولید نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعیم اعرجی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے خواتین کے ساتھ متعہ کے بارے میں سوال کیا ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تو ہم زنا کرنے والے تھے اور نہ ہی خفیہ دوستیاں رکھنے والے تھے ، پھر انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب قیامت سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ دجال اور کذاب ہوں گے ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ نے متعہ والا حصہ اور اس کے بعد والا حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” قیامت سے پہلے دجال آئے گا ، اور دجال سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ کذاب آئیں گے ، ہم نے عرض کی : اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ وہ تمہارے پاس ایسے طریقے لے کے آئیں گے ، جن پر تم پہلے گامزن نہیں تھے اور وہ ان کے ذریعے تمہاری سنت اور تمہارے دین کو تبدیل کر دیں گے ، جب تم انہیں دیکھو تو ان سے اجتناب کرنا اور ان سے دشمنی رکھنا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5694 و 5695)»
حدیث نمبر: 12486
وَعَنْ أَبِي الْجُلَاسِ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ : وَيْلَكَ ، وَاللَّهِ مَا أَفْضَى إِلَيَّ بِشَيْءٍ كَتَمَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا ، وَإِنَّكَ لَأَحَدُهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجلاس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عبداللہ سبائی سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : تمہارا ستیاناس ہو ! اللہ کی قسم ! مجھے بطور خاص کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں سے کسی سے چھپائی ہو ، البتہ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے میں کذاب آئیں گے ۔ “ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : ) اور تم ان میں سے ایک ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (449)»
حدیث نمبر: 12487
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَامِرٍ ، لَوْ سَبَقْتَ رَأَيْتَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ؟ قَالَ : حَقُرْتَ وَنَقُرْتَ ، أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ، كَذَّابٌ مُفْتَرٍ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مختار کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: آپ ذرا پہلے آ جاتے تو آپ جبرائیل اور میکائیل کو بھی دیکھ لیتے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس سے زیادہ حقیر اور کمتر ہو ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہو ، تم جھوٹے افتراء پرداز شخص ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12488
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّ الْمُخْتَارَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ . قَالَ : صَدَقَ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: مختار یہ کہتا ہے کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ ٹھیک کہتا ہے ( قرآن نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (928)»
حدیث نمبر: 12489
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ نَيِّفٌ وَسَبْعُونَ دَجَّالًا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبِشْرٌ صَاحِبُ أَنَسٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال کے نکلنے سے پہلے ستر سے زیادہ دجال آئیں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس ( کی سند ) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد بشر نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4055)»
حدیث نمبر: 12490
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[ وَ ] قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ سَبْعُونَ كَذَّابًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ستر کذاب نہیں نکلیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12491
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا ، مِنْهُمُ الْأَسْوَدُ الْعَنْسِيُّ وَصَاحِبُ صَنْعَاءَ وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت سے پہلے تیس کذاب آئیں گے ، جن میں سے ایک اسود عنسی ہے ، اور ایک صنعاء کا رہنے والا شخص ہے ، اور ایک یمامہ والا شخص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3376) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6820)»
حدیث نمبر: 12492
وَعَنْ شُعَيْبِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِطَرِيقِ الْمُنْكَدِرِ ، وَكَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ فِيهِ ، فَطَلَبْنَا الطَّرِيقَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ نَحْنُ بِأَعْرَابِيٍّ كَأَنَّمَا نَبَعَ مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ لِي : يَا شَيْخُ ، تَدْرِي أَيْنَ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : أَنْتَ بِالذَّوَائِبِ ، وَهَذَا التَّلُّ الْأَبْيَضُ الَّذِي تَرَاهُ عِظَامُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ وَتَغْلِبَ ، وَهَذَا قَبْرُ كُلَيْبٍ أَخِي مُهَلْهَلٍ . ثُمَّ قَالَ لِي : هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَحِيفَةٌ يَسْمَعُ مِنْهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَذَهَبَ بِي إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مَعْصُوبِ الْحَاجِبَيْنِ بِعِصَابَةٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . فَقُلْتُ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَامَ قَوْمَةً لَهُ كَأَنَّهُ مُفْزَعٌ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ : بِأَبِي وَأُمِّي ، قُمْتَ كَأَنَّكَ مُفْزَعٌ ! قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدَّجَّالِينَ الثَّلَاثَةَ " . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : بِأَبِي وَأُمِّي ، قَدْ أَخْبَرْتَنَا عَنِ الدَّجَّالِ الْأَعْوَرِ وَعَنْ أَكْذَبِ الْكَذَّابِينَ ، فَمِنَ الْكَذَّابُ الثَّالِثُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ يَخْرُجُ فِي قَوْمٍ أَوَّلُهُمْ مَثْبُورٌ وَآخِرُهُمْ مَبْتُورٌ ، عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ دَائِمَةً فِي فِتْنَةٍ يُقَالُ لَهَا الْحَارِقَةُ ، وَهُوَ الدَّجَّالُ الْأَطْلَسُ يَأْكُلُ عِبَادَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
شعیب بن عمر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کے لئے گئے ، ہم منکدر کے راستے سے گزرے ، لوگ وہی راستہ اختیار کر رہے تھے ، ہم نے راستہ تلاش کیا ، ابھی ہم وہاں موجود تھے کہ ہمارے سامنے ایک دیہاتی آیا ، یوں لگا جیسے وہ زمین سے نکل کے آیا ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا: اے شیخ ! تم جانتے ہو تم کہاں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، اس نے کہا: تم ذوئب میں ہو ، اور یہاں جو تم سفید ٹیلہ دیکھ رہے ہو یہ بکر بن وائل اور تغلب کی ہڈیاں ہیں ، اور یہ مہلہل کے بھائی کلیب کی قبر ہے ، پھر اس نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم کسی ایسے شخص میں دلچسپی رکھتے ہو کہ جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والا صحیفہ موجود ہو کہ تم اس سے سماع کرو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو وہ مجھے ساتھ لے کے چمڑے کے خیمے کی طرف گیا ، وہاں ایک صاحب موجود تھے ، جنہوں نے پٹی کے ذریعے اپنی بھنویں باندھی ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا عداء بن خالد بن عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں ضیاء کے شہسوار تھے ، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میرے ماں باپ آپ آپ پر قربان ہوں آپ پریشانی کی حالت میں اٹھے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم تین دجالوں سے بچ کے رہنا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے ہمیں کانے دجال کے بارے میں تو بتایا ہے ، اور سب سے بڑے جھوٹے کے بارے میں بھی بتایا ہے ، تو یہ تیسرا جھوٹا کون ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ، جو ایسی قوم میں نکلے گا ، جن کا ابتدائی حصہ ہلاک شدہ اور آخری حصہ دم کٹا ہو گا ، ان پر لعنت ہو گی اور وہ ہمیشہ اس فتنے میں رہیں گے جس کا نام حارقہ ہو گا ، اور وہ دجال اطلس ہو گا ، جو اللہ کے بندوں کو کھا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (14/18)»
حدیث نمبر: 12493
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةَ كَذَّابِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَنْدَلِ بْنِ وَالِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت سے پہلے کذاب ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جندل بن والق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12494
وَعَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ أَبْجَرَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نِسْوَةٌ مَسَاتِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سلامہ بنت ابجر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے میں ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوے دار ) اور ایک خون بہانے والا شخص ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں کچھ خواتین ہیں جن کی حالت مستور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (310/24)»