مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا قَبْلَ الدَّجَّالِ وَمَنْ نَجَا مِنْهُ نَجَا . باب: اس چیز کا بیان جو دجال سے پہلے ہو گی اور جو شخص اس سے نجات پا لے گا وہ نجات پا لے گا
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مَنْ نَجَا مِنْهَا نَجَا : مَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ مُؤْمِنٍ فَقَدْ نَجَا ، وَمَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ خَلِيفَةٍ يُقْتَلُ مَظْلُومًا وَهُوَ مُصْطَبِرٌ يُعْطِي الْحَقَّ مِنْ نَفْسِهِ فَقَدْ نَجَا ، وَمَنْ نَجَا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ فَقَدْ نَجَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان سے نجات پا لے گا وہ نجات پا لے گا ، جو شخص کسی مومن کے قتل کے وقت نجات پا لے ، تو اس نے نجات پا لی ، جو شخص کسی خلیفہ کے قتل کے وقت نجات پا لے ، جسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور وہ خلیفہ صبر کرنے والا ہو اور وہ اپنی ذات کی طرف سے حق کی ادائیگی کرتا ہو ، تو ایسا شخص بھی نجات پا لے گا ، اور جو شخص دجال کے فتنے سے نجات پا لے گا ، اس نے بھی نجات پا لی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مصری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔