کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: وہ شخص کیا کرے جو ردّی لوگوں میں باقی رہ جائے ؟
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَتُهُمْ وَاخْتَلُّوا وَصَارُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ؟ قَالَ : فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ مَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتُقْبِلُ عَلَى خَاصَّتِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے عبداللہ بن عمر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ اختلاف کا شکار ہوں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس چیز کو قبول کرو ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کی طرف متوجہ رہو اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دو ! “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5593)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَابْنَيْهِ ، فَقَالَ : " تَرَوْنَ إِذَا أُخِّرْتُمْ إِلَى زَمَانِ حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَنُذُورُهُمْ فَاشْتَبَكُوا وَكَانُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَيُقْبِلُ أَحَدُكُمْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ ، وَيَذَرُ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں صاحبزادوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ اگر تمہیں ایسے زمانے تک باقی رکھا گیا کہ جب ردّی لوگ باقی رہ گئے ہوں گے ، جن کے عہد اور ان کی نذریں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُس چیز کو لے لینا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جو تمہیں منکر محسوس ہو اور تم میں سے ہر ایک شخص بطور خاص اپنا خیال رکھے ، اور لوگوں کے عمومی معاملے کو ( اُن کے حال پر ) چھوڑ دے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5868)»
وَفِي رِوَايَةٍ " وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم لوگ اللہ کے دین میں تلوّن ( رنگ برنگی چیزیں اختیار کرنے ) سے بچ کے رہنا ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5984)»
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ وَاخْتَلَفُوا حَتَّى كَانُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " خُذْ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جو اختلاف کا شکار ہوں گے ، یہاں تک وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم وہ چیز لے لو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دو جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد بن عبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَالِطُوا النَّاسَ ، وَصَافُوهُمْ بِمَا يَشْتَهُونَ وَدِينَكُمْ فَلَا تَكْلِمُنَّهُ ،
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : ” لوگوں کے ساتھ گھل مل کے رہو ! لیکن ان کی خواہشات اور اپنے دین کا دھیان رکھنا کہ کہیں تم اس ( دین ) کو مجروح نہ کر دو ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9757)»
وَفِي رِوَايَةٍ : خَالِطُوا النَّاسَ وَزَايِلُوهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگوں کے ساتھ ملو جلو ، لیکن ان سے الگ بھی رہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9756)»