حدیث نمبر: 12200
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَتُهُمْ وَاخْتَلُّوا وَصَارُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ؟ قَالَ : فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ مَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتُقْبِلُ عَلَى خَاصَّتِكَ ، وَتَدَعُ عَوَامَّهُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے عبداللہ بن عمر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ اختلاف کا شکار ہوں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس چیز کو قبول کرو ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کی طرف متوجہ رہو اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دو ! “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5593)»