مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ كَيْفَ يَفْعَلُ مَنْ بَقِيَ فِي حُثَالَةٍ . باب: وہ شخص کیا کرے جو ردّی لوگوں میں باقی رہ جائے ؟
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ وَاخْتَلَفُوا حَتَّى كَانُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " خُذْ مَا تَعْرِفُ ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جو اختلاف کا شکار ہوں گے ، یہاں تک وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم وہ چیز لے لو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دو جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد بن عبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔