مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ قَهْرِ السَّفِيهِ الْحَلِيمَ . باب: بے وقوف شخص کا بردبار شخص پر غصہ کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ ، فَقَالَتِ الْكَلْبَةُ : وَاللَّهِ لَا أَنْبَحَ ضَيْفَ أَهْلِي . قَالَ : فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا . قَالَ : قِيلَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ : هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا حُلَمَاءَهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مرتبہ ایک شخص بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا ، میزبان کے گھر میں ایک کتیا تھی ، جس کے ہاں بچے ہونے والے تھے ، اُس کتیا نے سوچا : اللہ کی قسم ! آج میں اپنے گھر والوں کے مہمان کے لے نہیں بھونکوں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اُس کتیا کے بچے اس کے پیٹ میں مر گئے ، دریافت کیا گیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شخص کی طرف وحی کی : یہ مثال ہے ، اُس امت کی جو تمہارے بعد آئے گی اور اس کے بے وقوف اس کے بردبار لوگوں پر زیادتی کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔