مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ كَيْفَ يَفْعَلُ مَنْ بَقِيَ فِي حُثَالَةٍ . باب: وہ شخص کیا کرے جو ردّی لوگوں میں باقی رہ جائے ؟
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَابْنَيْهِ ، فَقَالَ : " تَرَوْنَ إِذَا أُخِّرْتُمْ إِلَى زَمَانِ حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَنُذُورُهُمْ فَاشْتَبَكُوا وَكَانُوا هَكَذَا ؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ ، وَيُقْبِلُ أَحَدُكُمْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ ، وَيَذَرُ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں صاحبزادوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ اگر تمہیں ایسے زمانے تک باقی رکھا گیا کہ جب ردّی لوگ باقی رہ گئے ہوں گے ، جن کے عہد اور ان کی نذریں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُس چیز کو لے لینا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جو تمہیں منکر محسوس ہو اور تم میں سے ہر ایک شخص بطور خاص اپنا خیال رکھے ، اور لوگوں کے عمومی معاملے کو ( اُن کے حال پر ) چھوڑ دے ۔ “