عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ حَكَمَانِ ضَالَّانِ ، ضَالٌّ مَنْ تَبِعَهُمَا " . فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُوسَى ، انْظُرْ لَا تَكُنْ أَحَدَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : هَذَا عِنْدِي بَاطِلٌ لِأَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَلِيٍّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ ، قُلْتُ : إِنَّمَا ضَعْفُهُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ عَابِسٍ الْأَسَدِيِّ فَإِنَّهُ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس امت میں دو ثالث ہوں گے ، وہ دونوں گمراہ ہوں گے اور اُن دونوں کی پیروی کرنے والا بھی گمراہ ہو گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے ابوموسیٰ ! آپ اس بات کا جائزہ لیجئے گا کہ کہیں آپ ان دونوں میں سے ایک نہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت جھوٹی ہے ، کیونکہ جعفر بن علی نامی شخص ایک مجہول بوڑھا ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : علی بن عابس اسدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت جھوٹی ہے ، کیونکہ جعفر بن علی نامی شخص ایک مجہول بوڑھا ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : علی بن عابس اسدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . فَأَنَا سَائِلُكَ عَنْ حَدِيثٍ فَإِنْ صَدَقْتَ ، وَلَا يَعْتِبُ عَلَيْكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ يُقَرِّرُكَ ، ثُمَّ أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، أَلَيْسَ إِنَّمَا عَنَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَفْسِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ فِي أُمَّتِي ، أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى فِيهَا ، نَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَاعِدٌ ، وَقَاعِدٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَائِمٌ ، وَقَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ مَاشٍ " . فَخَصَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَعُمَّ النَّاسَ ، فَخَرَجَ أَبُو مُوسَى وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوموسیٰ ! کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اور میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ، اگر آپ نے سچ بیانی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ پر عتاب نہیں کریں گے ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص ، آپ کو مخاطب کر کے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا : ” عنقریب میری امت میں ایک فتنہ رونما ہو گا ، اے ابوموسیٰ ! جس میں تم بھی موجود ہو گے ، جس میں سویا ہوا شخص بیٹھنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، بیٹھنے والا شخص کھڑے ہونے والے سے زیادہ بہتر ہو گا اور کھڑا ہونیوالا شخص چلنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ( یا مراد یہ ہو سکتی کہ اگر تم اس میں سوئے رہے ، تو یہ تمہارے لئے بیٹھے رہنے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم بیٹھے رہے ، تو یہ تمہارے کھڑے ہونے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم کھڑے رہے ، تو یہ تمہارے لئے چلنے سے زیادہ بہتر ہو گا ) ۔ پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص تمہارا ذکر کیا تھا ، عمومی طور پر لوگوں کو مراد نہیں لیا تھا ، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ : عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ ، وَهُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن ابوفاطمہ ہے اور وہ علی بن حزور ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْحَرَامِيِّ قَالَ : قَامَ عَلِيٌّ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ حِينَ اخْتَلَفَ الْحَكَمَانِ ، فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَعَصَيْتُمُونِي . فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى آدَمُ فَقَالَ : إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا نَهَيْتَنَا ، وَلَكِنَّكَ أَمَرْتَنَا وَدَمَّرْتَنَا ، فَلَمَّا كَانَ فِيهَا مَا تَكْرَهُ بَرَّأْتَ نَفْسَكَ وَنَحَلْتَنَا ذَنْبَكَ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : وَمَا أَنْتَ وَهَذَا الْكَلَامُ ؟ قَبَّحَكَ اللَّهُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتِ الْجَمَاعَةُ وَكُنْتَ فِيهَا خَامِلًا ، فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ نَجَمَتْ فِيهَا نُجُومُ قَرْنِ الْمَاعِزَةِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : لِلَّهِ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ ذَنْبًا إِنَّهُ لَصَغِيرٌ مَغْفُورٌ ، وَلَئِنْ كَانَ حَسَنًا إِنَّهُ لَعَظِيمٌ مَشْكُورٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ وَوَلَدُهُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ضحاک حزامی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے ، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ثالثوں کے درمیان اختلاف ہو گیا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں اس ثالثی سے منع کیا تھا ، اور تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی ، تو گندمی رنگت کا ایک نوجوان ان کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کی قسم ! آپ نے ہمیں منع نہیں کیا تھا ، بلکہ آپ نے تو ہمیں حکم دیا تھا اور آپ نے ہمیں برباد کروا دیا ، اور جب اس صورت حال میں وہ چیز سامنے آئی ، جو آپ کو پسند نہیں تھی ، تو آپ نے خود کو بری الذمہ ظاہر کر دیا اور اپنا گناہ ہمارے ذمہ ڈال دیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم کون ہو اور یہ کلام کس بنیاد پر کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے ، یہ ایک اجتماعی معاملہ تھا ، اور میں اس میں سست ( یا پوشیدہ رہا ) تھا ، جب فتنہ آیا تو تم اس میں بکرے کے سینگ کی طرح ( خوامخواہ ) آ گئے ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تیار کی ہے ، جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر پڑاؤ کریں گے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ گناہ تھا ، تو پھر یہ چھوٹا گناہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی اور اگر یہ اچھائی ہے ، تو یہ بڑی چیز ہے ، جس کا شکر قبول کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن ضحاک اور اس کا بیٹا یحیی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن ضحاک اور اس کا بیٹا یحیی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔