مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْحَكَمَيْنِ . باب: دو ثالثوں کا بیان
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْحَرَامِيِّ قَالَ : قَامَ عَلِيٌّ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ حِينَ اخْتَلَفَ الْحَكَمَانِ ، فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَعَصَيْتُمُونِي . فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى آدَمُ فَقَالَ : إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا نَهَيْتَنَا ، وَلَكِنَّكَ أَمَرْتَنَا وَدَمَّرْتَنَا ، فَلَمَّا كَانَ فِيهَا مَا تَكْرَهُ بَرَّأْتَ نَفْسَكَ وَنَحَلْتَنَا ذَنْبَكَ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : وَمَا أَنْتَ وَهَذَا الْكَلَامُ ؟ قَبَّحَكَ اللَّهُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتِ الْجَمَاعَةُ وَكُنْتَ فِيهَا خَامِلًا ، فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ نَجَمَتْ فِيهَا نُجُومُ قَرْنِ الْمَاعِزَةِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ : لِلَّهِ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ ذَنْبًا إِنَّهُ لَصَغِيرٌ مَغْفُورٌ ، وَلَئِنْ كَانَ حَسَنًا إِنَّهُ لَعَظِيمٌ مَشْكُورٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ وَوَلَدُهُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤محمد بن ضحاک حزامی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے ، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ثالثوں کے درمیان اختلاف ہو گیا تھا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں اس ثالثی سے منع کیا تھا ، اور تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی ، تو گندمی رنگت کا ایک نوجوان ان کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کی قسم ! آپ نے ہمیں منع نہیں کیا تھا ، بلکہ آپ نے تو ہمیں حکم دیا تھا اور آپ نے ہمیں برباد کروا دیا ، اور جب اس صورت حال میں وہ چیز سامنے آئی ، جو آپ کو پسند نہیں تھی ، تو آپ نے خود کو بری الذمہ ظاہر کر دیا اور اپنا گناہ ہمارے ذمہ ڈال دیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم کون ہو اور یہ کلام کس بنیاد پر کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے ، یہ ایک اجتماعی معاملہ تھا ، اور میں اس میں سست ( یا پوشیدہ رہا ) تھا ، جب فتنہ آیا تو تم اس میں بکرے کے سینگ کی طرح ( خوامخواہ ) آ گئے ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تیار کی ہے ، جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر پڑاؤ کریں گے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ گناہ تھا ، تو پھر یہ چھوٹا گناہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی اور اگر یہ اچھائی ہے ، تو یہ بڑی چیز ہے ، جس کا شکر قبول کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن ضحاک اور اس کا بیٹا یحیی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔