مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْحَكَمَيْنِ . باب: دو ثالثوں کا بیان
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ حَكَمَانِ ضَالَّانِ ، ضَالٌّ مَنْ تَبِعَهُمَا " . فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُوسَى ، انْظُرْ لَا تَكُنْ أَحَدَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : هَذَا عِنْدِي بَاطِلٌ لِأَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَلِيٍّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ ، قُلْتُ : إِنَّمَا ضَعْفُهُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ عَابِسٍ الْأَسَدِيِّ فَإِنَّهُ مَتْرُوكٌ . ¤سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس امت میں دو ثالث ہوں گے ، وہ دونوں گمراہ ہوں گے اور اُن دونوں کی پیروی کرنے والا بھی گمراہ ہو گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے ابوموسیٰ ! آپ اس بات کا جائزہ لیجئے گا کہ کہیں آپ ان دونوں میں سے ایک نہ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت جھوٹی ہے ، کیونکہ جعفر بن علی نامی شخص ایک مجہول بوڑھا ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : علی بن عابس اسدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور وہ متروک ہے ۔