مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي الْحَكَمَيْنِ . باب: دو ثالثوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ : يَا أَبَا مُوسَى ، أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . فَأَنَا سَائِلُكَ عَنْ حَدِيثٍ فَإِنْ صَدَقْتَ ، وَلَا يَعْتِبُ عَلَيْكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ يُقَرِّرُكَ ، ثُمَّ أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، أَلَيْسَ إِنَّمَا عَنَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَفْسِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ فِي أُمَّتِي ، أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى فِيهَا ، نَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَاعِدٌ ، وَقَاعِدٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَائِمٌ ، وَقَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ مَاشٍ " . فَخَصَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَعُمَّ النَّاسَ ، فَخَرَجَ أَبُو مُوسَى وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ . ¤ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوموسیٰ ! کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اور میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ، اگر آپ نے سچ بیانی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ پر عتاب نہیں کریں گے ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص ، آپ کو مخاطب کر کے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا : ” عنقریب میری امت میں ایک فتنہ رونما ہو گا ، اے ابوموسیٰ ! جس میں تم بھی موجود ہو گے ، جس میں سویا ہوا شخص بیٹھنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، بیٹھنے والا شخص کھڑے ہونے والے سے زیادہ بہتر ہو گا اور کھڑا ہونیوالا شخص چلنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ( یا مراد یہ ہو سکتی کہ اگر تم اس میں سوئے رہے ، تو یہ تمہارے لئے بیٹھے رہنے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم بیٹھے رہے ، تو یہ تمہارے کھڑے ہونے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم کھڑے رہے ، تو یہ تمہارے لئے چلنے سے زیادہ بہتر ہو گا ) ۔ پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص تمہارا ذکر کیا تھا ، عمومی طور پر لوگوں کو مراد نہیں لیا تھا ، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔