کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12073
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ ، وَاسْتَعْتِبُوهُ ، فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا . فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ وَقَتَلُوهُ ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ . قَالَ : لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ ، وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَوَثَبَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَهَمُّوا بِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : دَعُوهُ ، فَإِنَّهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ . فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ مَعْقِلٍ : هَذِهِ رَأْسُ الْأَرْبَعِينَ وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَلَهُ طَرِيقٌ فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں جب لوگوں نے احتجاج کیا تو انہوں نے یہ فرمایا : اے لوگو ! تم اس بزرگ کو قتل نہ کرنا اور ان کا خیال رکھنا کیونکہ جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا تو ان لوگوں کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے ستر ہزار لوگوں کا خون نہیں بہا دیا گیا اور جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کے خلیفہ کو شہید کیا تو ان لوگوں کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے چالیس ہزار افراد کا خون نہیں بہا دیا گیا ، لیکن لوگوں نے ان کی کہی ہوئی بات پر توجہ نہیں دی اور انہیں مارا پیٹا ، ایک مرتبہ وہ راستے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : عراق کی سرزمین کی طرف جانا چاہتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ عراق نہ جائیں ، آپ اللہ کے رسول کے منبر پر تشریف فرما ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے کچھ ان پر حملہ کرنے لگے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ ہم میں سے ، اہل بیت میں سے ایک ہیں ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ابن معقل سے کہا: یہ چالیس ہجری ہے ، اس کے اختتام پر صلح ہو گی ، جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد شہید کیے گئے اور جب بھی کسی امت نے نبی کے خلیفہ کو شہید کیا ، تو اس کے بدلے میں چالیس ہزار لوگ قتل کئے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کا ایک طریق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12074
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ابْنِي هَذَا - يَعْنِي الْحَسَنَ - سَيِّدٌ ، وَلَيُصْلِحَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12074
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2597)»
حدیث نمبر: 12075
وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : قَالَ عَمْرٌو وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ لِمُعَاوِيَةَ : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَجُلٌ عَيِيٌّ ، وَإِنَّ لَهُ كَلَامًا وَرَأْيًا ، وَإِنَّا قَدْ عَلِمْنَا كَلَامَهُ فَنَتَكَلَّمُ كَلَامَهُ فَلَا يَجِدُ كَلَامًا . قَالَ : لَا تَفْعَلُوا . فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَصَعِدَ عَمْرٌو الْمِنْبَرَ ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَوَقَعَ فِيهِ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ . ثُمَّ قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : اصْعَدْ . فَقَالَ : لَا أَصْعَدُ وَلَا أَتَكَلَّمُ حَتَّى تُعْطُونِي إِنْ قُلْتُ حَقًّا أَنْ تُصَدِّقُونِي ، وَإِنْ قُلْتُ بَاطِلًا أَنْ تُكَذِّبُونِي . فَأَعْطَوْهُ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَمَا بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُغِيرَةُ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ السَّابِقَ وَالرَّاكِبَ " أَحَدُهُمَا فُلَانٌ ؟ قَالَا : اللَّهُمَّ بَلَى . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ وَيَا مُغِيرَةُ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ عَمْرًا بِكُلِّ قَافِيَةٍ قَالَهَا لَعْنَةً ؟ قَالَا : اللَّهُمَّ بَلَى . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُعَاوِيَةُ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ قَوْمَ هَذَا ؟ قَالَا : بَلَى . قَالَ الْحَسَنُ : فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي وَقَعْتُمْ فِيمَنْ تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا ، قَالَ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى السَّاجِيِّ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : أَحَدُ الْأَثْبَاتِ مَا عَلِمْتُ فِيهِ جَرْحًا أَصْلًا ، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ : مُخْتَلَفٌ فِيهِ فِي الْحَدِيثِ ، وَثَّقَهُ قَوْمٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابومجلز بیان کرتے ہیں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ایک کمزور رائے شخص ہیں اور ان کا ایک مخصوص موقف ہے ، ہم ان کے موقف کو جانتے ہیں ، ہم اس حوالے سے کلام کر لیں گے ، تو ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں رہے گا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسا نہ کرو ! لیکن ان لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی ، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان پر تنقید کی ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: گیا : آپ منبر پر چڑھیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں ( اس وقت تک منبر پر ) نہیں چڑھوں گا اور اس وقت تک بات چیت نہیں کروں گا ، جب تک تم میرے ساتھ یہ طے نہیں کرتے کہ اگر میں نے سچ بات بیان کی ، تو تم میری تصدیق کرو گے اور اگر میں نے غلط بات بیان کی ، تو تم مجھے جھٹلا دو گے ، لوگوں نے ان کے ساتھ یہ طے کر لیا ، وہ منبر پر چڑھئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : اے عمرو ! اور اے مغیرہ ! میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” ہانک کر لے جانے والے اور سوار شخص پر ، اللہ تعالیٰ لعنت کرے ۔ “ اور ان دونوں میں سے ایک شخص فلاں تھا ، ان دونوں صاحبان نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے معاویہ اور اے مغیرہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے عمرو ( بن العاص ) پر لعنت کی تھی ، ان دونوں نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے جی ہاں ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عمرو ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور اے معاویہ بن ابوسفیان ! آپ سے بھی دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس قوم پر لعنت کی ہے ، ان دونوں نے جواب دیا ، جی ہاں ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جن صاحب پر تنقید کی تھی وہ اس چیز سے لاتعلق ہیں ( کہ اللہ کے رسول نے ان پر لعنت کی ہو ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد زکریا بن یحیی ساجی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں یہ مثبت راویوں میں سے ایک ہے ، مجھے اس کے بارے میں سرے سے کسی جرح کا علم نہیں ہے ، ابن قطان کہتے ہیں حدیث کے بارے میں اس شخص کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2698)»
حدیث نمبر: 12076
وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ فَحَجَبَهُ مَلِيًّا ، وَعِنْدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَعَنْ هَذَيْنِ حَجَبْتَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ تَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهُمْ جَاءَنَا فَمَلَأَنَا كَذِبًا - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ عِنْدَهُ مَهَرَةُ جَدِّكَ ، وَطَعْنٌ فِي اسْتِ أَبِيكَ . فَقَالَ : أَلَا تَسْمَعُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : أَنْتَ بَدَأْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن یزید بیان کرتے ہیں : اشعث بن قیس نے کوفہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اجازت دینے میں ذرا تاخیر کی ، پھر جب وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا معاویہ کے پاس سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، اشعث نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ نے ان دو افراد کی وجہ سے مجھے اندر آنے نہیں دیا ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے آقا ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ سے بھر دیا ، راوی کہتے ہیں : اس کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان صاحب ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کے پاس تمہارے دادا کا گھوڑا تھا اور انہوں نے تمہارے باپ پر وار کیا تھا ( یعنی ان صاحب نے اسلام کی سربلندی کی خاطر تمہارے باپ دادا کے ساتھ جنگ کی تھی ) تو اشعث نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! آپ سن رہے ہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بات شروع تم نے کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12076
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (653)»
حدیث نمبر: 12077
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَجَلَسَ شَدَّادٌ بَيْنَهُمَا وَقَالَ : هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُجْلِسُنِي بَيْنَكُمَا ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا جَمِيعًا فَفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا ، فَوَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَا إِلَّا عَلَى غَدْرَةٍ " ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان کیوں بیٹھا ہوں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم لوگ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھو ، تو ان دونوں کو الگ کروا دینا کیونکہ اللہ کی قسم ! یہ دونوں کسی عہد شکنی پر ہی اکٹھے ہوں گے ۔ “ ( پھر سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں تم دونوں کو الگ کروا دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یعلیٰ بن شداد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7161)»