حدیث نمبر: 10736
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حِجَازًا بَيْنَ النَّاسِ ، فَكَانَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ أَثِمَ فِيهَا ، أُرِيَ عُقُوبَةً مِنَ اللَّهِ يُنَكِّلُ بِهَا عَنِ الْجَرْأَةِ عَلَى الْمَحَارِمِ ، فَكَانُوا يَتَوَرَّعُونَ عَنْ أَيْمَانِ الصَّبْرِ وَيَخَافُونَهَا . ¤ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ هُمْ أَهْيَبَ لَهَا ، لِمَا عَلَّمَهُمْ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو حَارِثَةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْ مُحَيِّصَةَ ، فَأَنْكَرَتِ الْيَهُودُ . ¤ فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَهُودَ لِقَسَامَتِهِمْ ، لِأَنَّهُمُ الَّذِينَ ادَّعَوُا الدَّمَ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا كَبِيرًا مَنْ قَتَلَهُ . فَنَكَلَتْ يَهُودُ عَنِ الْأَيْمَانِ . ¤ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي حَارِثَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ غِيلَةً ، وَيَسْتَحِقُّونَ بِذَلِكَ الَّذِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ الَّذِي قَتَلَ صَاحِبَهُمْ ، فَنَكَلَتْ بَنُو حَارِثَةَ عَنِ الْأَيْمَانِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ، وَفِي دِيَارِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں قسامت لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہوتی تھی اس میں ہوتا یہ تھا کہ جب کوئی شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا تھا اور اس قسم اٹھانے میں گناہ گار ہوتا تھا ، تو یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ اب اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی جس کے ذریعے اسے اس بات کی سزا دی جائے گی کہ اس نے حرمت والے کام کے حوالے سے جرات کی ہے ، تو وہ لوگ جھوٹی قسم اٹھانے سے پرہیز کرتے تھے اور اس سے خوف زدہ رہتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قسامت کے حکم کے ہمراہ مبعوث کیا ( یعنی آپ کو اس بارے میں حکم دیا ) تو مسلمان اس سے زیادہ خوف زدہ ہو گئے کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے دو گروہوں کے درمیان قسامت کا فیصلہ دیا ان لوگوں کو بنو حارثہ کہا: جاتا تھا اس کی صورت یوں ہوئی کہ یہودیوں نے سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا اور یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کے لئے یہودیوں کو بلوایا کیونکہ ان لوگوں نے خون کا دعوی کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پچاس افراد قسم اٹھائیں پچاس بڑے افراد اس قتل کے حوالے سے قسم اٹھائیں گے یہودیوں نے قسم اٹھانے سے انکار کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو حارثہ کو بلوایا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ پچاس افراد قسمیں اٹھائیں جو پچاس افراد اٹھائیں گے کہ یہودیوں نے انہیں دھوکے کے ساتھ قتل کیا ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس کے حق دار ہو جائیں گے جو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو یہودیوں نے قتل کیا ہے ۔ تو بنو حارثہ نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو آپ نے اس مقتول کی دیت کی ادائیگی یہودیوں پر لازم قرار دی کیونکہ وہ مقتول ان لوگوں کے درمیان اور ان کے علاقے میں پایا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10737)»