مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقَسَامَةِ ، وَالْقَتِيلِ يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمٍ باب: قسامت کا بیان ، نیز جب کسی قوم کے علاقے میں کوئی شخص مقتول پایا جائے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : وُجِدَ قَتِيلٌ أَوْ مَيِّتٌ بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَرَعَ مَا بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَيُّهُمَا كَانَ أَقْرَبَ فَوُجِدَ أَقْرَبَ إِلَى أَحَدِهِمَا بِشِبْرٍ ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُ عَلَى الَّذِي كَانَ أَقْرَبَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو بستیوں کے درمیان ایک شخص مقتول ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میت کے طور پر پایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا دونوں بستیوں کے درمیان پیمائش کی گئی کہ وہ شخص کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ، تو وہ ان دونوں بستیوں میں سے ایک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا راوی بیان کرتے ہیں : گویا میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بالشت کی طرف دیکھ رہا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا معاملہ ان لوگوں کے خلاف قرار دیا جس ( بستی ) کے وہ زیادہ قریب تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔