کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: حد کے بارے میں تلقین
❮
❯
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : أُتِيَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ جُلَّ بَعِيرٍ - أَوْ جُلَّ دَابَّةٍ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخَالُهُ فَعَلَ " . ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ ، فَقَالَ : " مَا أَخَالُهُ فَعَلَ " . حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ شَهَادَاتٍ . قَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ " . فَذَهَبُوا بِهِ فَقَطَعُوا يَدَهُ ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَيْحَكَ تُبْ إِلَى اللَّهِ " . فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے ایک اونٹ کی جھول چوری کی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک جانور کی جھول چوری کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہو گا ، یہاں تک کہ اس شخص نے اپنے خلاف گواہیاں دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے میرے پاس لے کر آنا لوگ اسے لے گئے اور انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6684) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6684، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 8259، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 3293»
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنْ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا ، فَقَالَتْ : إِنِّي زَنَيْتُ . فَقَالَ : لَعَلَّكِ غَيْرَى ؟ لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ ؟ لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ ؟ كُلُّ ذَلِكَ تَقُولُ : لَا .
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : شراحہ ہمدانیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی: میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شاید تم مزاج کی تیزی کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہو شاید تم نے یہ چیز خواب میں دیکھی تھی شاید تمہارے ساتھ زبردستی کی گئی تھی ہر مرتبہ اس عورت نے یہی جواب دیا : جی نہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1185)»
وَفِي رِوَايَةٍ : لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ ؟ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” شاید تمہارے شوہر نے تمہارے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1316 و 1209 و 1190)»