حدیث نمبر: 10486
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : أُتِيَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ جُلَّ بَعِيرٍ - أَوْ جُلَّ دَابَّةٍ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخَالُهُ فَعَلَ " . ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا سَرَقَ ، فَقَالَ : " مَا أَخَالُهُ فَعَلَ " . حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ شَهَادَاتٍ . قَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ " . فَذَهَبُوا بِهِ فَقَطَعُوا يَدَهُ ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَيْحَكَ تُبْ إِلَى اللَّهِ " . فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے ایک اونٹ چوری کیا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک جانور چوری کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے ایسا کیا ہو گا ، یہاں تک کہ اس شخص نے اپنے خلاف گواہیاں دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے میرے پاس لے کر آنا لوگ اسے لے گئے اور انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6684)»