عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ لِيَ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي فَائْتِهِ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا سَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا ، وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ ; فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أُومِئُ بِرَأْسِيَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ . فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَكَ فِي ذَلِكَ ، قَالَ : أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ . قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآنِي قَالَ : " أَفْلَحَ الْوَجْهُ " . قَالَ : قُلْتُ : قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " صَدَقْتَ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بِي بَيْتَهُ ، فَأَعْطَانِي عَصًا ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَاعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ ، فَقَالُوا : مَا هَذِهِ الْعَصَا ؟ قُلْتُ : أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا ، قَالُوا : أَوَلَا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا ؟ قَالَ : " آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ " . قَالَ : فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہذلی میرے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے ، تاکہ میرے ساتھ جنگ کرے تم اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تاکہ میں اسے پہچان لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جب اسے دیکھو گے ، تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو گی راوی کہتے ہیں : میں اپنی تلوار لے کر نکلا اور اس جگہ آ گیا وہ عرنہ کے مقام پر کچھ خواتین کے ساتھ تھا جو اس کے لئے رہائش کی جگہ تیار کر رہی تھیں عصر کا وقت ہو چکا تھا جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر اسی طرح کپکپی طاری ہوئی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے بیان کیا تھا میں اس کی طرف آیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان کوئی اور چیز رکاوٹ نہ بن جائے میں نے نماز ادا کرنا شروع کی میں سر کے اشارے کے زریعے رکوع اور سجدہ کرتا تھا جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے کہا: میں ایک شخص ہوں جس نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم ان صاحب کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہو ، تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں اس نے کہا: ٹھیک ہے میں یہ کام کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں : میں اس کے ساتھ چلتا رہا ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا تو میں نے تلوار کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا پھر میں وہاں سے نکلا میں نے اس کی عورتوں کو چھوڑا کہ وہ اس پر جھکی ہوئی تھیں جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : یہ کامیاب چہرہ ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ساتھ لے کر اٹھے آپ مجھے اپنے گھر لے آئے آپ نے مجھے عصا دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ بن انیس اسے اپنے پاس رکھنا راوی کہتے ہیں : میں اسے لے کر لوگوں کے پاس آیا تو لوگوں نے کہا: یہ عصا کہاں سے آیا ہے میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول نے مجھے دیا ہے ، اور آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے اپنے پاس رکھوں لوگوں نے کہا: تم اللہ کے رسول کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کیوں نہیں کرتے ؟ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان نشانی ہو اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے ، جو عصا کے ساتھ ٹیک لگانے والے ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا لیا تھا ، اور وہ مسلسل ان کے ساتھ رہا ، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہونے لگا ، تو انہوں نے اس کے بارے میں حکم دیا ، تو وہ عصا ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور پھر ان دونوں کو ایک ساتھ دفن کر دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نماز خوف سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِي مِنْ خَالِدِ بْنِ نُبَيْحٍ ؟ " رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِعُرَنَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْعَتْهُ لِي ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتَهُ هِبْتَهُ " . قُلْتُ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ مَا هِبْتُ شَيْئًا قَطُّ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُهُ بِحِيَالِ عُرَنَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَلَقِيتُهُ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَعَرَفْتُ حِينَ رُعِبْتُ مِنْهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : بَاغٍ حَاجَةً ، فَهَلْ مِنْ مَبِيتٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَالْحَقْ بِي ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَصَلَّيْتُ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَرَانِيَ ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ غَشِيتُ الْجَبَلَ وَكَمَنْتُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ النَّاسُ خَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ : فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِخْصَرَةً ، فَقَالَ : تَخَصَّرْ بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُتَخَصِّرُونَ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ أَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ وَكُفِّنَ عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ مَعَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون میری خاطر خالد بن نبیح ( کو قتل کرے گا ؟ ) راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسا شخص تھا جو ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتا تھا ، اور عرنہ کے مقام پر موجود تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ایسا کروں گا آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے دیکھو گے ، تو خوف زدہ ہو جاؤ گے میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے میں کبھی کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہوا راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ عرنہ کے قریب سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی جب میں اس سے ملا تو میں اس سے مرعوب ہو گیا اور جب میں اس سے مرعوب ہوا تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا مفہوم سمجھ آ گیا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں کیا رات ٹھہرنے کی گنجائش ہے اس نے کہا: جی ہاں تم میرے ساتھ رہو راوی کہتے ہیں : میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے عصر کی دو رکعت مختصر ادا کیں پھر میں نکلا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے پھر میں اس کے پاس پہنچا اور اسے تلوار ماری پھر میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور چھپ گیا ، یہاں تک کہ جب لوگ چلے گئے ، تو میں باہر نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہو گیا میں نے آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ۔ راوی محمد بن کعب بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو ایک عصا عطا کیا اور فرمایا : اس کو لے کر چلنا ، یہاں تک کہ اس کے ہمراہ قیامت کے دن تم مجھ سے ملنا اور اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس عصا ہو گا ۔ محمد بن کعب نامی راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اُن کے حکم کے تحت اس عصا کو ان کے پیٹ پر رکھ دیا گیا اور اس پر کفن دیا گیا اور اسے ان کے ہمراہ دفن کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِسُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ ؟ يَهْجُونِي وَيَشْتُمُنِي ، وَيُؤْذِينِي " . فَقُلْتُ : أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْعَثْنِي لَهُ . فَبَعَثَهُ لَهُ . ¤ فَلَمَّا أَتَاهُ لَيْلًا دَخَلَ دَارَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ سُفْيَانُ ؟ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ مَطْلَعَهُ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ سُفْيَانَ ، فَمُرُوهُ فَلْيَطَّلِعْ عَلَيَّ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ سُفْيَانُ ، فَقَالَ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تَهْبِطَ إِلَيَّ فَإِنَّ عِنْدِي دِرْعًا أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكَهَا قَالَ : فَأَيْنَ هِيَ ؟ قَالَ : هَذِهِ ، فَاهْبِطْ إِلَيَّ بِقِبَائِكَ ، فَاخْرُجْ مَعِي أُرِيكُهَا ، فَخَرَجَ مَعَهُ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ . ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ ، وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصًا يَتَخَصَّرُ بِهَا ، فَنَاوَلَهُ إِيَّاهَا فَقَالَ : " تَخَصَّرْ بِهَذِهِ ; فَإِنَّ الْمُتَخَصِّرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَلِيلٌ " . فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى مَاتَ فَدُفِنَتْ مَعَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون سفیان ہذلی کو ( قتل کرے گا ؟ ) وہ میری ہجو کرتا ہے مجھے برا کہتا ہے مجھے اذیت دیتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا بندوبست کرتا ہوں آپ مجھے اس کی طرف بھیجیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی طرف بھیج دیا جب وہ رات کے وقت اس کے پاس آئے ، اور اس کے گھر میں داخل ہوئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : سفیان کہاں ہے ؟ ان کے گھر والوں میں سے کسی نے جھانک کر دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : میں سفیان سے ملنا چاہتا ہوں تم اس سے کہو کہ میرے پاس آئے سفیان نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولا: تم کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اتر کر میرے پاس آؤ کیونکہ میرے پاس ایک زرہ ہے ، جو میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں اس نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ میرے پاس ہے تم اتر کر میرے پاس آؤ اور قبا پہن کے آؤ ، تاکہ میں وہ تم کو دکھاؤں ، تو وہ اس کے ساتھ نکلا انہوں نے تلوار لہرا کر اس پر حملہ کیا اور اسے ٹھنڈا کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں موجود تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : انہوں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت عصا تھا جسے آپ لے کر چلتے تھے وہ آپ نے انہیں پکڑایا اور فرمایا : اسے لے کر چلو کیونکہ قیامت کے دن عصا لے کر چلنے والے لوگ کم ہوں گے راوی کہتے ہیں : وہ عصا مسلسل ان کے ساتھ رہا ، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس عصا کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا رَجُلٌ يَكْفِينِي سُفْيَانَ الْهُذَلِيَّ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ هَجَانِي " . فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : " بِعُرَنَةَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُ لِي ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَهُ فَرَقْتَ مِنْهُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فَرَقْتُ شَيْئًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَسْعَى عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى قَتَلَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! کیا کوئی شخص سفیان ہذلی سے میری طرف سے بدلہ نہیں لے گا ؟ کیونکہ اس نے میری ہجو کی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کہاں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرنہ کے مقام پر ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اسے دیکھو گے ، تو اسے دیکھ کر ڈر جاؤ گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میں بھی کسی چیز سے نہیں ڈرا ہوں پھر سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے نکلے ، یہاں تک کہ انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آ گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔