مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ باب: خالد بن سفیان ہذلی کا قتل
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِي مِنْ خَالِدِ بْنِ نُبَيْحٍ ؟ " رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِعُرَنَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْعَتْهُ لِي ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتَهُ هِبْتَهُ " . قُلْتُ : وَالَّذِي أَكْرَمَكَ مَا هِبْتُ شَيْئًا قَطُّ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُهُ بِحِيَالِ عُرَنَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَلَقِيتُهُ فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَعَرَفْتُ حِينَ رُعِبْتُ مِنْهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : بَاغٍ حَاجَةً ، فَهَلْ مِنْ مَبِيتٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَالْحَقْ بِي ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَصَلَّيْتُ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَرَانِيَ ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ غَشِيتُ الْجَبَلَ وَكَمَنْتُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ النَّاسُ خَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ : فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِخْصَرَةً ، فَقَالَ : تَخَصَّرْ بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُتَخَصِّرُونَ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ أَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ وَكُفِّنَ عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ مَعَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون میری خاطر خالد بن نبیح ( کو قتل کرے گا ؟ ) راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسا شخص تھا جو ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتا تھا ، اور عرنہ کے مقام پر موجود تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ایسا کروں گا آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے دیکھو گے ، تو خوف زدہ ہو جاؤ گے میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے میں کبھی کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہوا راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ عرنہ کے قریب سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے میری اس سے ملاقات ہوئی جب میں اس سے ملا تو میں اس سے مرعوب ہو گیا اور جب میں اس سے مرعوب ہوا تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا مفہوم سمجھ آ گیا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا میں ایک کام کے سلسلے میں آیا ہوں کیا رات ٹھہرنے کی گنجائش ہے اس نے کہا: جی ہاں تم میرے ساتھ رہو راوی کہتے ہیں : میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے عصر کی دو رکعت مختصر ادا کیں پھر میں نکلا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے پھر میں اس کے پاس پہنچا اور اسے تلوار ماری پھر میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور چھپ گیا ، یہاں تک کہ جب لوگ چلے گئے ، تو میں باہر نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہو گیا میں نے آپ کو صورت حال کے بارے میں بتایا ۔ راوی محمد بن کعب بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو ایک عصا عطا کیا اور فرمایا : اس کو لے کر چلنا ، یہاں تک کہ اس کے ہمراہ قیامت کے دن تم مجھ سے ملنا اور اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس عصا ہو گا ۔ محمد بن کعب نامی راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اُن کے حکم کے تحت اس عصا کو ان کے پیٹ پر رکھ دیا گیا اور اس پر کفن دیا گیا اور اسے ان کے ہمراہ دفن کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔