مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ باب: خالد بن سفیان ہذلی کا قتل
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لِسُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ ؟ يَهْجُونِي وَيَشْتُمُنِي ، وَيُؤْذِينِي " . فَقُلْتُ : أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْعَثْنِي لَهُ . فَبَعَثَهُ لَهُ . ¤ فَلَمَّا أَتَاهُ لَيْلًا دَخَلَ دَارَهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ سُفْيَانُ ؟ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ مَطْلَعَهُ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ سُفْيَانَ ، فَمُرُوهُ فَلْيَطَّلِعْ عَلَيَّ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ سُفْيَانُ ، فَقَالَ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تَهْبِطَ إِلَيَّ فَإِنَّ عِنْدِي دِرْعًا أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكَهَا قَالَ : فَأَيْنَ هِيَ ؟ قَالَ : هَذِهِ ، فَاهْبِطْ إِلَيَّ بِقِبَائِكَ ، فَاخْرُجْ مَعِي أُرِيكُهَا ، فَخَرَجَ مَعَهُ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ . ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ ، وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصًا يَتَخَصَّرُ بِهَا ، فَنَاوَلَهُ إِيَّاهَا فَقَالَ : " تَخَصَّرْ بِهَذِهِ ; فَإِنَّ الْمُتَخَصِّرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَلِيلٌ " . فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى مَاتَ فَدُفِنَتْ مَعَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون سفیان ہذلی کو ( قتل کرے گا ؟ ) وہ میری ہجو کرتا ہے مجھے برا کہتا ہے مجھے اذیت دیتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کا بندوبست کرتا ہوں آپ مجھے اس کی طرف بھیجیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی طرف بھیج دیا جب وہ رات کے وقت اس کے پاس آئے ، اور اس کے گھر میں داخل ہوئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : سفیان کہاں ہے ؟ ان کے گھر والوں میں سے کسی نے جھانک کر دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : میں سفیان سے ملنا چاہتا ہوں تم اس سے کہو کہ میرے پاس آئے سفیان نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولا: تم کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ تم اتر کر میرے پاس آؤ کیونکہ میرے پاس ایک زرہ ہے ، جو میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں اس نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ میرے پاس ہے تم اتر کر میرے پاس آؤ اور قبا پہن کے آؤ ، تاکہ میں وہ تم کو دکھاؤں ، تو وہ اس کے ساتھ نکلا انہوں نے تلوار لہرا کر اس پر حملہ کیا اور اسے ٹھنڈا کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں موجود تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : انہوں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت عصا تھا جسے آپ لے کر چلتے تھے وہ آپ نے انہیں پکڑایا اور فرمایا : اسے لے کر چلو کیونکہ قیامت کے دن عصا لے کر چلنے والے لوگ کم ہوں گے راوی کہتے ہیں : وہ عصا مسلسل ان کے ساتھ رہا ، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس عصا کو ان کے ساتھ دفن کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ متروک ہے ۔