مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ خَالِدِ بْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ باب: خالد بن سفیان ہذلی کا قتل
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ يَجْمَعُ لِيَ النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي فَائْتِهِ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا سَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا ، وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ ; فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أُومِئُ بِرَأْسِيَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ . فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَكَ فِي ذَلِكَ ، قَالَ : أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ . قَالَ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآنِي قَالَ : " أَفْلَحَ الْوَجْهُ " . قَالَ : قُلْتُ : قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " صَدَقْتَ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بِي بَيْتَهُ ، فَأَعْطَانِي عَصًا ، فَقَالَ : " أَمْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَاعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ ، فَقَالُوا : مَا هَذِهِ الْعَصَا ؟ قُلْتُ : أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسِكَهَا ، قَالُوا : أَوَلَا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا ؟ قَالَ : " آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ " . قَالَ : فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہذلی میرے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے ، تاکہ میرے ساتھ جنگ کرے تم اس کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تاکہ میں اسے پہچان لوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جب اسے دیکھو گے ، تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو گی راوی کہتے ہیں : میں اپنی تلوار لے کر نکلا اور اس جگہ آ گیا وہ عرنہ کے مقام پر کچھ خواتین کے ساتھ تھا جو اس کے لئے رہائش کی جگہ تیار کر رہی تھیں عصر کا وقت ہو چکا تھا جب میں نے اسے دیکھا تو مجھ پر اسی طرح کپکپی طاری ہوئی جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے بیان کیا تھا میں اس کی طرف آیا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان کوئی اور چیز رکاوٹ نہ بن جائے میں نے نماز ادا کرنا شروع کی میں سر کے اشارے کے زریعے رکوع اور سجدہ کرتا تھا جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے کہا: میں ایک شخص ہوں جس نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم ان صاحب کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہو ، تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں اس نے کہا: ٹھیک ہے میں یہ کام کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں : میں اس کے ساتھ چلتا رہا ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا تو میں نے تلوار کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا پھر میں وہاں سے نکلا میں نے اس کی عورتوں کو چھوڑا کہ وہ اس پر جھکی ہوئی تھیں جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : یہ کامیاب چہرہ ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ساتھ لے کر اٹھے آپ مجھے اپنے گھر لے آئے آپ نے مجھے عصا دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ بن انیس اسے اپنے پاس رکھنا راوی کہتے ہیں : میں اسے لے کر لوگوں کے پاس آیا تو لوگوں نے کہا: یہ عصا کہاں سے آیا ہے میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول نے مجھے دیا ہے ، اور آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے اپنے پاس رکھوں لوگوں نے کہا: تم اللہ کے رسول کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کیوں نہیں کرتے ؟ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ عصا مجھے کیوں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاکہ یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان نشانی ہو اس دن تھوڑے لوگ ایسے ہوں گے ، جو عصا کے ساتھ ٹیک لگانے والے ہوں گے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا لیا تھا ، اور وہ مسلسل ان کے ساتھ رہا ، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہونے لگا ، تو انہوں نے اس کے بارے میں حکم دیا ، تو وہ عصا ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور پھر ان دونوں کو ایک ساتھ دفن کر دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نماز خوف سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔