حدیث نمبر: 10347
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا رَجُلٌ يَكْفِينِي سُفْيَانَ الْهُذَلِيَّ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ هَجَانِي " . فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : " بِعُرَنَةَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُ لِي ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَهُ فَرَقْتَ مِنْهُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فَرَقْتُ شَيْئًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَسْعَى عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى قَتَلَهُ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! کیا کوئی شخص سفیان ہذلی سے میری طرف سے بدلہ نہیں لے گا ؟ کیونکہ اس نے میری ہجو کی ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کہاں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرنہ کے مقام پر ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم اسے دیکھو گے ، تو اسے دیکھ کر ڈر جاؤ گے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے میں بھی کسی چیز سے نہیں ڈرا ہوں پھر سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے نکلے ، یہاں تک کہ انہوں نے اس شخص کو قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آ گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع