حدیث نمبر: 10306
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِصْنَ الطَّائِفِ ، تَدَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَكَرَةٍ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَدَلَّيْتَ ؟ " فَقُلْتُ : تَدَلَّيْتُ بِبَكَرَةٍ ، قَالَ : " أَنْتَ أَبُو بَكَرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الْمِنْهَالِ الْبَكْرَاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نیچے کیسے آئے ؟ میں نے عرض کی : میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کے آیا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ابوبکرہ ہو ( یعنی رسی والے ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومنہال بکراوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومنہال بکراوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10307
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مِنَ الْأَنْصَارِ : ثَابِتُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، وَثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الْجَذْعُ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ : رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَعْلَبَةَ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے غزوہ طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں انصار سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے یہ ثعلبہ وہ صاحب ہیں ، جنہیں ” جذع“ کہا: جاتا ہے ۔ انصار کی شاخ بنو عمرو بن عوف کی شاخ بنو معاویہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا رقیم بن ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10308
وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَالِمٍ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَرَامٍ : ثَعْلَبَةُ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الْجَذْعُ . وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَارِثِ : رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتٍ أَوْ ثَابِتُ بْنُ ثَعْلَبَةَ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے یوم طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں انصار کے قبیلے بنو سالم کی شاخ بنو حرام سے تعلق رکھنے والے سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے جنہیں ” جذع “ کہا: جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ انصار کے قبیلے بنوعمرو بن عوف کی شاخ بنو معاویہ بن حارث سے تعلق رکھنے والے سیدنا رقیم بن ثابت رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ثابت بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10309
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ : جُلَيْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ نَاشِبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ لَيْثٍ . ¤ وَمِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْأَوْسِ : رُقَيْمُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ ثَوْبَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ . وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ : سَعِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي . رَوَاهَا الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق نے غزوہ طائف میں شہید ہونے والوں کے ناموں میں سیدنا جلیحہ بن عبدالله محارب بن ناشب بن سعد بن لیث رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انصار کے قبیلے بنواوس سے تعلق رکھنے والے سیدنا رقیم بن ثابت بن ثعلبہ بن ثوبان بن معاویہ ہیں ۔ اس کے علاوہ قریش کی شاخ بنوامیہ بن عبد شمس سے تعلق رکھنے والے سیدنا سعید بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10310
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَخْزُومٍ أَخُو أُمِّ سَلَمَةَ لِأَبِيهَا ، أُمُّهُ : عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْلَمَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَاسْتُشْهِدَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن ابوامیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے والد کی طرف سے شریک بھائی ہیں ان صاحب کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عبدالمطلب ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں ان صاحب نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے انہوں نے اسلام قبول کیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ طائف میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے جام شہادت نوش کیا ۔