کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیدیوں میں سے جو شخص اسلام قبول کر لے
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ نَاسًا يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يَسْبِيهِمُ الْمُهَاجِرُونَ فَيُدْخِلُونَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " قَوْمٌ مِنَ الْعَجَمِ يَسْبِيهِمْ " . ¤ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ كَتَبَ عَنْهُ أَبُو حَاتِمٍ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں میں کس بات پر مسکرایا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ جنہیں بیڑیوں میں جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں مہاجرین نے قیدی بنایا تھا ، اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو اسلام میں داخل کروا دیا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عجمیوں سے تعلق رکھنے والی وہ قوم جنہیں ان لوگوں نے قیدی بنا لیا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی بشر بن سہل ہے ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت نوٹ کی اور پھر اس کی حدیث کو پرے کر دیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1730)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کی وجہ سے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جائے جائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9710
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8087) اخرجه احمد فى المسند (924/5)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكَرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ قِيلَ : مَا يُضْحِكُكَ ؟ قَالَ : " ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُؤْتَى بِهِمْ إِلَى الْجَنَّةِ فِي كُبُولِ الْحَدِيدِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خندق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا آپ نے پھاؤڑا پکڑا ، اور اس کے ذریعے کھدائی شروع کی ، آپ کی ضرب ایک پتھر پر لگی تو آپ مسکرا دیے ، عرض کی گئی : آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں اُن ( لوگوں ) کی اس بات پر مسکرایا ہوں جنہیں مشرق کی طرف سے بیٹریوں میں لایا جائے گا ، اور انہیں جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” انہیں لوہے کی بیڑیوں ( یا زنجیروں ) میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5955) اخرجه أحمد فى المسند (338/5)»
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہیں زبردستی جنت کی طرف لے جایا جائے گا “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ابویکی اسلمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9712
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5733)»