حدیث نمبر: 9709
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ نَاسًا يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يَسْبِيهِمُ الْمُهَاجِرُونَ فَيُدْخِلُونَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " قَوْمٌ مِنَ الْعَجَمِ يَسْبِيهِمْ " . ¤ وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ كَتَبَ عَنْهُ أَبُو حَاتِمٍ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى حَدِيثِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں میں کس بات پر مسکرایا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ جنہیں بیڑیوں میں جنت کی طرف لے جایا جا رہا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں مہاجرین نے قیدی بنایا تھا ، اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو اسلام میں داخل کروا دیا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عجمیوں سے تعلق رکھنے والی وہ قوم جنہیں ان لوگوں نے قیدی بنا لیا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی بشر بن سہل ہے ابوحاتم نے اس کے حوالے سے روایت نوٹ کی اور پھر اس کی حدیث کو پرے کر دیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9709
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1730)»