حدیث نمبر: 9708
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ مُهَاجَرِهِ إِلَيْهَا فَوَافَيْنَاهُ يَضْرِبُ أَعْنَاقَ أُسَارَى عَلَى مَاءٍ قَلِيلٍ فَقَتَلَ عَلَيْهِ حَتَّى سَفَحَ الدَّمُ الْمَاءَ . ¤ قَالَ صَفْوَانُ : سَفَحَ : يَعْنِي : غَطَّى الْمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَلْقَمَةُ مَجْهُولٌ وَقَبْلَهُ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

علقمہ بن ہلال اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے یہ آپ کے مدینہ منورہ ہجرت کر لینے کے بعد کی بات ہے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ نے ایک تھوڑے سے پانی کے پاس موجود قیدیوں کی گردنیں اڑوا دیں آپ نے اس پانی کے پاس انہیں قتل کروایا یہاں تک کہ خون نے پانی کو ڈھانپ دیا ۔ صفوان کہتے ہیں : لفظ سفح کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پانی کو ڈھانپ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے علقمہ نامی راوی مجہول ہے اس سے پہلے ایک راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (380/22)»