حدیث نمبر: 9711
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكَرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ قِيلَ : مَا يُضْحِكُكَ ؟ قَالَ : " ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُؤْتَى بِهِمْ إِلَى الْجَنَّةِ فِي كُبُولِ الْحَدِيدِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خندق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا آپ نے پھاؤڑا پکڑا ، اور اس کے ذریعے کھدائی شروع کی ، آپ کی ضرب ایک پتھر پر لگی تو آپ مسکرا دیے ، عرض کی گئی : آپ کس بات پر مسکرائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں اُن ( لوگوں ) کی اس بات پر مسکرایا ہوں جنہیں مشرق کی طرف سے بیٹریوں میں لایا جائے گا ، اور انہیں جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” انہیں لوہے کی بیڑیوں ( یا زنجیروں ) میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9711
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5955) اخرجه أحمد فى المسند (338/5)»