کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگ کے لئے صف بندی کرنا
عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ : صَفَّنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَعِي مَعِي " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَذَا قَالَ أَبِي . وَقَالَ : وَصَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَالصَّحِيحُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
اسلم ابوعمران تجیبی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ” جنگ بدر کے دن ہم نے صف قائم کی ہم میں سے ایک شخص آگے نکلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا : میرے ساتھ رہو ! میرے ساتھ رہو ! “ ۔ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے اسی طرح بیان کیا ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ہم نے غزوہ بدر کے دن صف بنائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے صحیح قول یہ ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9669
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (420/5)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا الْعَدُوَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَحَدُنَا أَشَدُّ تَفَقُّدًا لِرُكْبَةِ أَخِيهِ حِينَ يَتَقَدَّمُ لِلصَّفِّ لِلْقِتَالِ مِنْهُ لِلسَّهْمِ حِينَ يُرْمَى يَقُولُ : احْذَرْ رُكْبَتَكَ ، فَإِنِّي أَلْتَمِسُ كَمَا تَلْتَمِسُ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ مَقَامِ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي آخِرِ بَابِ فَضْلِ الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب ہم دشمن کے مقابلے میں موجود ہوتے تھے ، تو ہم میں سے ہر شخص اس بات کا بھرپور خیال رکھتا تھا کہ جب تیراندازی کے لئے جنگ کے دوران صف بندی کی جائے تو اس کے بھائی کا گھٹنا آگے نہ ہو جائے وہ شخص یہ کہتا تھا اپنے گھٹنے کا خیال کرو ، کیونکہ میں بھی اسی طرح ( شہادت کا ) طلبگار ہوں جس طرح تم طلبگار ہو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : وہ لوگ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوتے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے اور وہ متروک ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو جہاد کی فضیلت سے متعلق باب کے آخر میں اللہ کی راہ میں صف بندی کے دوران آدمی کے کھڑا ہونے کی فضیلت کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَتِهِ سِتِّينَ سَنَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " لَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ سَاعَةً " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کا اللہ کی راہ میں ( جنگ کے دوران ) صف میں کھڑا ہونا اس کے ساٹھ سال عبادت کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : ” تم میں سے کسی ایک شخص کا صف میں گھڑی بھر کے لئے کھڑا ہونا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1667 و 1666) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (168/18)»