حدیث نمبر: 9668
عَنِ الْمَخَارِقِ قَالَ : لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ فَقُلْتُ : أُقَاتِلُ مَعَكَ ؟ فَقَالَ : قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مخارق بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر میری ملاقات سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک طرف پیشاب کر رہے تھے میں نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لوں ؟ انہوں نے فرمایا : تم اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے جنگ کرو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ وہ اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے جنگ کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند متصل ہے اسے امام ابویعلیٰ اور امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابواسحاق شیبانی ہے جس سے ایک جماعت نے روایات نقل کی ہیں کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1700) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6641) اخرجه احمد فى المسند (263/4)»