حدیث نمبر: 9672
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : كَانَ شِعَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا كُلَّ خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ الْقَوَارِيرِيِّ ، رَوَى عَنْ سُفْيَانَ ، وَذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَكَانَ يَطْلُبُ الْحَدِيثَ مَعَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ شعار ہوتا تھا : اے ہر بھلائی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے قواریری کے حوالے سے منصور بن عبداللہ شقفی قواریری سے نقل کی ہے انہوں نے اسے سفیان سے نقل کیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ کہا: ہے منصور بن عبداللہ ، زہری سے روایت نقل کرتا ہے یہ ابن عیینہ کے ساتھ علم حدیث سیکھتا رہا ہے بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے قواریری کے حوالے سے منصور بن عبداللہ شقفی قواریری سے نقل کی ہے انہوں نے اسے سفیان سے نقل کیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ کہا: ہے منصور بن عبداللہ ، زہری سے روایت نقل کرتا ہے یہ ابن عیینہ کے ساتھ علم حدیث سیکھتا رہا ہے بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9673
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَنَادَى عَلَيْهِمْ : " يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی طرف ہٹ رہے ہیں ، تو آپ نے انہیں بلند آواز میں پکار کر کہا: اے سورت بقرہ والو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قتیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قتیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔