عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فَقَالَ : أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسَبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ ، فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِأُخَرَةَ : أَنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ ، أَلَا فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تُجْمِرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . وَأَبُو فِرَاسٍ لَمْ أَرَ مَنْ جَرَحَهُ وَلَا وَثَّقَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوفراس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : خبردار ! مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا جب میں یہ سمجھتا تھا کہ جب کوئی شخص قرآن پڑھے گا تو وہ اس کے ذریعے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پاس موجود ( اجر و ثواب ) کا ارادہ رکھتا ہو گا پھر بعد میں مجھے یہ خیال آیا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو قرآن سیکھیں گے اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے پاس موجود ( دنیاوی فوائد ) کے حصول کا ارادہ کریں گے خبردار تم اپنی قرائت کے ذریعے اللہ تعالیٰ ( کی رضامندی ) کا ارادہ کرو اور اپنے اعمال کے ذریعے اسی کا ارادہ کرو خبردار تم مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو کہ تم انہیں ذلت کا شکار کر دو اور نہ تم انہیں لشکروں میں روک کے رکھو ( کہ انہیں گھر ہی نہ جانے دو ) تو یوں تم انہیں آزمائش کا شکار کر دو گے اور نہ ہی تم جنگلات کے پاس ( یعنی آبادیوں سے دور ) ٹھہراؤ ، ورنہ تم انہیں ضائع کر دو گے ، اور نہ ہی تم ان کے حقوق روکو ، ورنہ تم انہیں ناشکری پر مجبور کر دو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ۔ کسی ابوفراس نامی راوی پر جرح کرتے ہوئے یا کسی کو اس کی ، توثیق کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ۔ کسی ابوفراس نامی راوی پر جرح کرتے ہوئے یا کسی کو اس کی ، توثیق کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ، لَمْ يَحْفَظْهُمْ بِمَا حَفِظَ بِهِ نَفْسَهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا جو بھی فرد کسی بھی معاملے کا نگران بنے اور وہ ان لوگوں کی حفاظت اس طرح نہ کرے جس طرح وہ اپنے آپ کی اور اپنے اہلخانہ کی حفاظت کرتا ہے ، تو ایسا شخص جنت کی خوشبو نہیں پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى يَنْظُرَ فِي حَوَائِجِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی بھی چیز کا نگران بنے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی حاجت کی طرف اس وقت تک نظر نہیں کرے گا ، جب تک وہ شخص ان لوگوں کی حاجتوں کی طرف نظر نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا شخص ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا شخص ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعَانَ بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا ، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ ، أَذَلَّهُ اللَّهُ مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ مِنَ الْخِزْيِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ كِتَابُهُ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ ، وَمَنْ تَوَلَّى مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا ، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَوْلَى بِذَلِكَ ، وَأَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ، فَقَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَجَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَنْ تَرَكَ حَوَائِجَ النَّاسِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى يَنْظُرَ فِي حَوَائِجِهِمْ ، وَيُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَمِنْ أَكْلَ دِرْهَمَ رِبًا فَهُوَ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ زَنْيَةً ، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ حَمْزَةُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص باطل کی مدد کرے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور جو شخص زمین میں اللہ کے سلطان کی طرف چل کر جائے تاکہ اسے ذلت کا شکار کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا شکار کر دے گا ، اور اس کے ہمراہ قیامت کے دن اس کے لئے رسوائی کو سنبھال کے رکھے گا ، اور زمین میں اللہ کا سلطان اس کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے ، اور جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے اور پھر ان لوگوں پر ایسے شخص کو عامل مقرر کر دے ، جب کہ وہ یہ جانتا ہو کہ ان لوگوں کے درمیان ایسا فرد موجود ہے جو اس عہدے کا اس سے زیادہ حق رکھتا ہے ، اور جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے ، تو ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو گا ، اور جو شخص لوگوں کی حاجتوں کو چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی طرف اس وقت تک نظر نہیں کرے گا ، جب تک وہ شخص لوگوں کی حاجت کی طرف نظر نہیں کرے گا ، اور لوگوں کو ان کے حقوق ادا نہیں کرے گا ، اور جو شخص سود کا ایک درہم کھائے گا ، تو یہ تینتیس مرتبہ زنا کرنے کے مترادف ہے ، اور جس گوشت کی نشو و نما حرام سے ہوئی ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد جزری حمزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد جزری حمزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ أَمِيرًا أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَتَقَدَّمَ عَلَيْنَا غُلَامًا سَفِيهًا يَسْفِكُ الدِّمَاءَ سَفْكًا شَدِيدًا ، وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مِنَ السَّبْعَةِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُفَقِّهُونَ أَهْلَ الْبَصْرَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ لَهُ : انْتَهِ عَنْ مَا أَرَاكَ تَصْنَعُ فَإِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَقَالَ لَهُ : مَا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ إِنَّمَا أَنْتَ حُثَالَةٌ مِنْ حُثَالَاتِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَهَلْ كَانَتْ فِيهِمْ حُثَالَةٌ لَا أُمَّ لَكَ ؟ بَلْ كَانُوا أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَشَرَفٍ مِمَّنْ كَانُوا مِنْهُ ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ إِمَامٍ وَلَا وَالٍ بَاتَ لَيْلَةً سَوْدَاءَ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَنَحْنُ نَعْرِفُ فِي وَجْهِهِ مَا قَدْ لَقِيَ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا زِيَادٍ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِكَلَامِ هَذَا السَّفِيهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي عِلْمٌ خَفِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أَقُولَ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ عَلَانِيَةً ، وَوَدِدْتُ أَنَّ دَارَهُ وَسِعَتْ أَهْلَ هَذَا الْمِصْرِ فَسَمِعُوا مَقَالَتِي وَسَمِعُوا مَقَالَتَهُ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَازِلٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَأَنَا آخِذٌ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا مَخَافَةَ أَنْ تُؤْذِيهِ إِذْ قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَكْرَهُ أَنْ أُفْنِيَهَا لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلَ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الْجِنِّ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى هَيْآتِهَا وَعُيُونِهَا إِذَا نَظَرَتْ ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ " . ¤ ثُمَّ قَامَ الشَّيْخُ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : أَتَعْهَدُ إِلَيْنَا شَيْئًا نَفْعَلُ بِهِ الَّذِي تُحِبُّ ؟ قَالَ : أَوَفَاعَلٌ أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ الْكِلَابِ وَغَيْرِهَا . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد امیر بن کر ہمارے پاس آئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا انہوں نے ایک بے وقوف لڑکے کو ہم پر امیر مقرر کر دیا جو بہت زیادہ خون بہاتا تھا اس وقت ہمارے درمیان سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے یہ ان سات افراد میں سے ایک تھے جنہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا تھا ایک دن سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے ، اور اس سے کہا: تم اس چیز سے باز آ جاؤ جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کر رہے ہو کیونکہ سب سے برے حکمران وہ ہوتے ہیں جو ( غیر ضروری ) سختی کریں ، اس نے ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا معاملہ ہے آپ ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چھان بورے کے طور پر باقی رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے کیا ان اصحاب میں چھان بورا ہونا تھا ؟ بلکہ وہ لوگ ، تو عزت والے اور معزز لوگ تھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی حکمران ، یا والی ایک سیاہ رات ایسی حالت میں گزارتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہو تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے “ ۔ پھر وہ اس شخص کے پاس سے نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے ، اور تشریف فرما ہوئے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے انہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اندازہ ہمیں ان کے چہرے سے ہو گیا میں نے ان سے کہا: اے ابوزیاد ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے لوگوں کے سامنے آپ کو اس بے وقوف کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے تھی انہوں نے فرمایا : اگر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی پوشیدہ علم تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایسے نہ مر جاؤں جب تک میں لوگوں کے سامنے علانیہ طور پر اسے بیان نہیں کر دیتا اور میری یہ خواہش ہے کہ اس کا گھر اس شہر کے تمام لوگوں کے لئے گنجائش والا ہوتا ( یعنی ہر کوئی اس کے پاس آ سکتا ) اور میری گفتگو اور اس کی گفتگو سن لیتا پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بیان کرنا شروع کی : ” ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے سائے میں پڑاؤ کیا ہوا تھا میں نے اس درخت کی کچھ ٹہنیاں پکڑی ہوئی تھیں تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت نہ پہنچائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کتے مخلوق کی مستقل قسم نہ ہوتے اور میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا کہ میں اس مخصوص قسم کو ہی فنا کر دوں ، تو میں نے انہیں مار دینے کا حکم دینا تھا تا ہم تم ان میں سے ہر ایک کالے سیاہ کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا ، اور تم اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو کیونکہ انہیں جنات سے پیدا کیا گیا ہے کیا تم نے ان کی ہیئت اور ان کی آنکھوں کو نہیں دیکھا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہوتی ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ بزرگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے اس کے بعد وہ اس بیماری میں مبتلاء ہو گئے جس میں ان کا انتقال ہوا تھا اس بیماری کے دوران عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کرنے کے لئے آیا اس نے ان سے کہا: کیا آپ ہمیں کوئی تلقین کرنا چاہیں گے جس کے بارے آپ یہ پسند کریں کہ ہم ویسا کریں انہوں نے دریافت کیا : تم ایسا کر لو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے جو کتوں کے بارے میں حکم اور دیگر امور پر مشتمل ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ إِمَامٍ يَبِيتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَعَرْفُهَا يُوجَدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ ثَابِتِ بْنِ نُعَيْمٍ الْهَوْجِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُنَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّرِيقِ الْأُولَى ثِقَاتٌ ، وَفِي الثَّانِيَةِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو بھی حکمران ایسی حالت میں رات گزارتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام قرار دیدے گا حالانکہ اس کی خوشبو قیامت کے دن ستر برس کی مسافت سے محسوس ہو گی “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے اپنے استاد ثابت بن نعیم ہو جی کے حوالے سے نقل کی ہیں میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے پہلے طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسرے طریق میں عبداللہ بن مغفل ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا فَغَشَّهُمْ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے اور پھر ان کے ساتھ دھوکہ کرے وہ جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میسرہ ابولیلی ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میسرہ ابولیلی ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ وَلِيَ أُمَّةً مِنْ أُمَّتِي قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ فَلَمْ يَعْدِلْ فِيهِمْ كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میری امت کے کسی بھی گروہ کا نگران بنے گا خواہ ان کی تعداد کم ہو یا زیادہ ہو اور پھر وہ ان لوگوں کے بارے میں عدل سے کام نہ لے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ فِي الصَّغِيرِ : " فَلَمْ يَنْصَحْ لَهُمْ وَلَا يَجْتَهِدْ لَهُمْ كَنَصِيحَتِهِ وَجُهْدِهِ لِنَفْسِهِ " . ¤
محمد محی الدین
معجم صغیر کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ ان کے لئے خیرخواہی نہ کرے اور وہ ان کے لئے کوشش نہ کرے جس طرح وہ اپنی خیرخواہی کرتا ہے ، اور اپنی ذات کے لئے کوشش کرتا ہے “ ۔