حدیث نمبر: 9072
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ أَمِيرًا أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ فَتَقَدَّمَ عَلَيْنَا غُلَامًا سَفِيهًا يَسْفِكُ الدِّمَاءَ سَفْكًا شَدِيدًا ، وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ مِنَ السَّبْعَةِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُفَقِّهُونَ أَهْلَ الْبَصْرَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ لَهُ : انْتَهِ عَنْ مَا أَرَاكَ تَصْنَعُ فَإِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَقَالَ لَهُ : مَا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ إِنَّمَا أَنْتَ حُثَالَةٌ مِنْ حُثَالَاتِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَهَلْ كَانَتْ فِيهِمْ حُثَالَةٌ لَا أُمَّ لَكَ ؟ بَلْ كَانُوا أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَشَرَفٍ مِمَّنْ كَانُوا مِنْهُ ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ إِمَامٍ وَلَا وَالٍ بَاتَ لَيْلَةً سَوْدَاءَ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَنَحْنُ نَعْرِفُ فِي وَجْهِهِ مَا قَدْ لَقِيَ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا زِيَادٍ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِكَلَامِ هَذَا السَّفِيهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي عِلْمٌ خَفِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أَقُولَ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ النَّاسِ عَلَانِيَةً ، وَوَدِدْتُ أَنَّ دَارَهُ وَسِعَتْ أَهْلَ هَذَا الْمِصْرِ فَسَمِعُوا مَقَالَتِي وَسَمِعُوا مَقَالَتَهُ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَازِلٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ وَأَنَا آخِذٌ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا مَخَافَةَ أَنْ تُؤْذِيهِ إِذْ قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ أَكْرَهُ أَنْ أُفْنِيَهَا لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلَ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الْجِنِّ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى هَيْآتِهَا وَعُيُونِهَا إِذَا نَظَرَتْ ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ " . ¤ ثُمَّ قَامَ الشَّيْخُ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَمَا لَبِثَ أَنْ مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : أَتَعْهَدُ إِلَيْنَا شَيْئًا نَفْعَلُ بِهِ الَّذِي تُحِبُّ ؟ قَالَ : أَوَفَاعَلٌ أَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي أَمْرِ الْكِلَابِ وَغَيْرِهَا . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن زیاد امیر بن کر ہمارے پاس آئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا انہوں نے ایک بے وقوف لڑکے کو ہم پر امیر مقرر کر دیا جو بہت زیادہ خون بہاتا تھا اس وقت ہمارے درمیان سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے یہ ان سات افراد میں سے ایک تھے جنہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اہل بصرہ کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا تھا ایک دن سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے ، اور اس سے کہا: تم اس چیز سے باز آ جاؤ جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کر رہے ہو کیونکہ سب سے برے حکمران وہ ہوتے ہیں جو ( غیر ضروری ) سختی کریں ، اس نے ان سے دریافت کیا : آپ کا کیا معاملہ ہے آپ ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چھان بورے کے طور پر باقی رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے کیا ان اصحاب میں چھان بورا ہونا تھا ؟ بلکہ وہ لوگ ، تو عزت والے اور معزز لوگ تھے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی حکمران ، یا والی ایک سیاہ رات ایسی حالت میں گزارتا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنے والا ہو تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے “ ۔ پھر وہ اس شخص کے پاس سے نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے ، اور تشریف فرما ہوئے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے انہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اندازہ ہمیں ان کے چہرے سے ہو گیا میں نے ان سے کہا: اے ابوزیاد ! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے لوگوں کے سامنے آپ کو اس بے وقوف کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے تھی انہوں نے فرمایا : اگر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی پوشیدہ علم تھا تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ایسے نہ مر جاؤں جب تک میں لوگوں کے سامنے علانیہ طور پر اسے بیان نہیں کر دیتا اور میری یہ خواہش ہے کہ اس کا گھر اس شہر کے تمام لوگوں کے لئے گنجائش والا ہوتا ( یعنی ہر کوئی اس کے پاس آ سکتا ) اور میری گفتگو اور اس کی گفتگو سن لیتا پھر انہوں نے ہمیں یہ بات بیان کرنا شروع کی : ” ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے سائے میں پڑاؤ کیا ہوا تھا میں نے اس درخت کی کچھ ٹہنیاں پکڑی ہوئی تھیں تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت نہ پہنچائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کتے مخلوق کی مستقل قسم نہ ہوتے اور میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا کہ میں اس مخصوص قسم کو ہی فنا کر دوں ، تو میں نے انہیں مار دینے کا حکم دینا تھا تا ہم تم ان میں سے ہر ایک کالے سیاہ کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا ، اور تم اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ پر نماز ادا نہ کرو کیونکہ انہیں جنات سے پیدا کیا گیا ہے کیا تم نے ان کی ہیئت اور ان کی آنکھوں کو نہیں دیکھا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں تم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہوتی ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ بزرگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے اس کے بعد وہ اس بیماری میں مبتلاء ہو گئے جس میں ان کا انتقال ہوا تھا اس بیماری کے دوران عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کرنے کے لئے آیا اس نے ان سے کہا: کیا آپ ہمیں کوئی تلقین کرنا چاہیں گے جس کے بارے آپ یہ پسند کریں کہ ہم ویسا کریں انہوں نے دریافت کیا : تم ایسا کر لو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا ایک حصہ مذکور ہے جو کتوں کے بارے میں حکم اور دیگر امور پر مشتمل ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9072
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ