حدیث نمبر: 9071
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعَانَ بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا ، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ ، أَذَلَّهُ اللَّهُ مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ مِنَ الْخِزْيِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ كِتَابُهُ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ ، وَمَنْ تَوَلَّى مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا ، فَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَوْلَى بِذَلِكَ ، وَأَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ، فَقَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَجَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَنْ تَرَكَ حَوَائِجَ النَّاسِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى يَنْظُرَ فِي حَوَائِجِهِمْ ، وَيُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَمِنْ أَكْلَ دِرْهَمَ رِبًا فَهُوَ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ زَنْيَةً ، وَمَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ حَمْزَةُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص باطل کی مدد کرے تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور جو شخص زمین میں اللہ کے سلطان کی طرف چل کر جائے تاکہ اسے ذلت کا شکار کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا شکار کر دے گا ، اور اس کے ہمراہ قیامت کے دن اس کے لئے رسوائی کو سنبھال کے رکھے گا ، اور زمین میں اللہ کا سلطان اس کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے ، اور جو شخص مسلمانوں کے معاملے میں سے کسی چیز کا نگران بنے اور پھر ان لوگوں پر ایسے شخص کو عامل مقرر کر دے ، جب کہ وہ یہ جانتا ہو کہ ان لوگوں کے درمیان ایسا فرد موجود ہے جو اس عہدے کا اس سے زیادہ حق رکھتا ہے ، اور جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہے ، تو ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو گا ، اور جو شخص لوگوں کی حاجتوں کو چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی طرف اس وقت تک نظر نہیں کرے گا ، جب تک وہ شخص لوگوں کی حاجت کی طرف نظر نہیں کرے گا ، اور لوگوں کو ان کے حقوق ادا نہیں کرے گا ، اور جو شخص سود کا ایک درہم کھائے گا ، تو یہ تینتیس مرتبہ زنا کرنے کے مترادف ہے ، اور جس گوشت کی نشو و نما حرام سے ہوئی ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومحمد جزری حمزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9071
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11216)»