مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الرَّعِيَّةِ وَالنُّصْحِ لَهَا . باب: رعایا کے حق میں ان کی خیرخواہی کا بیان
عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فَقَالَ : أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسَبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ ، فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِأُخَرَةَ : أَنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ ، أَلَا فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تُجْمِرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ . وَأَبُو فِرَاسٍ لَمْ أَرَ مَنْ جَرَحَهُ وَلَا وَثَّقَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوفراس بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : خبردار ! مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا جب میں یہ سمجھتا تھا کہ جب کوئی شخص قرآن پڑھے گا تو وہ اس کے ذریعے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے پاس موجود ( اجر و ثواب ) کا ارادہ رکھتا ہو گا پھر بعد میں مجھے یہ خیال آیا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو قرآن سیکھیں گے اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے پاس موجود ( دنیاوی فوائد ) کے حصول کا ارادہ کریں گے خبردار تم اپنی قرائت کے ذریعے اللہ تعالیٰ ( کی رضامندی ) کا ارادہ کرو اور اپنے اعمال کے ذریعے اسی کا ارادہ کرو خبردار تم مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو کہ تم انہیں ذلت کا شکار کر دو اور نہ تم انہیں لشکروں میں روک کے رکھو ( کہ انہیں گھر ہی نہ جانے دو ) تو یوں تم انہیں آزمائش کا شکار کر دو گے اور نہ ہی تم جنگلات کے پاس ( یعنی آبادیوں سے دور ) ٹھہراؤ ، ورنہ تم انہیں ضائع کر دو گے ، اور نہ ہی تم ان کے حقوق روکو ، ورنہ تم انہیں ناشکری پر مجبور کر دو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ۔ کسی ابوفراس نامی راوی پر جرح کرتے ہوئے یا کسی کو اس کی ، توثیق کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔