حدیث نمبر: 9077
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : بَعَثَ عُمَرُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَلَى الْكُوفَةِ أَمِيرًا ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْعُدَ لَهُمْ وَلَا يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ ، فَبَلَغَ عُمَرَ أَنَّهُ يَحْتَجِبُ عَنْهُمْ وَيُغْلِقُ الْبَابَ دُونَهُمْ ، فَبَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَأَمْرَهُ إِنْ قَدِمَ وَالْبَابُ مُغْلَقٌ أَنْ يُشْعِلَهُ نَارًا ، وَإِنْ كَانَ بُكْرَةً رَاحَ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ عَشِيَّةً غَدَا بِهِ بُكْرَةً ، فَقَدِمَ عَمَّارُ الْكُوفَةَ فَحَرَقَ عَلَيْهِ الْبَابَ وَأَشْخَصَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا امیر بنا کر بھیجا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے لئے بیٹھ جایا کریں اور وہ ان کے لئے پردے میں نہ رہیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ لوگوں کو چھوڑ کر پردے میں رہتے ہیں اور دروازہ بند رکھتے ہیں ( یعنی لوگوں سے ملتے نہیں ہیں ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا جب وہ ( ان کے گھر ) آئیں اور اس وقت دروازہ بند ہو تو ان کے گھر کو آگ لگا دیں اگر صبح کا وقت ہو تو ایسا کر لیں شام کا وقت ہو تو اگلے دن صبح ایسے کریں جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو انہوں نے وہ دروازہ جلا دیا اور ( واپس ) روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 9078
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ بِالشَّامِ وَحَوْلَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ جُلُوسٌ فَقَالَ : يَا عُمَرُ . فَقَالَ : هَا أَنَا عُمَرُ . فَقَالَ لَهُ بِلَالٌ : إِنَّكَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَ هَؤُلَاءِ ، وَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ اللَّهِ أَحَدٌ ، فَانْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ، وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَوْلَكَ إِنْ يَأْكُلُونَ ، إِلَّا لُحُومَ الطَّيْرِ قَالَ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا حَتَّى تَكْفُلُوا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُ وَحَظَّهُ مِنَ الزَّيْتِ وَالْخَلِّ . فَقَالُوا : هَذَا إِلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الرِّزْقِ وَأَكْثَرَ مِنَ الْخَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو اس وقت شام میں موجود تھے اور ان کے اردگرد لشکروں کے امیر بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا عمر ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہاں ہوں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اللہ تعالیٰ اور ان لوگوں کے درمیان ہیں لیکن آپ کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نہیں ہے ، تو آپ اپنے دائیں طرف بھی دیکھیں اور بائیں طرف بھی دیکھیں اور آپ آگے بھی جائزہ لیں اور پیچھے بھی دیکھیں یہ لوگ جو آپ کے اردگرد موجود ہیں یہ لوگ صرف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں اٹھوں گا ، جب تک تم لوگ اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ مسلمانوں کے ہر فرد کو اس کا کھانا اور زیتون اور سرکہ میں سے اس کا حصہ ملے گا ان لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین آپ کو یہ چیز ملتی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق میں وسعت عطا کی ہے ، اور زیادہ بھلائی عطا کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہیں ۔
حدیث نمبر: 9079
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ أُعَلِّمُكُمْ كِتَابَ رَبِّكُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَأُنَظِّفُ لَكُمْ طُرُقَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیر المؤمنین نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں تمہارے پروردگار کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت کی تعلیم دوں اور تمہارے راستوں کو تمہارے لئے صاف کر دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔