کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص ( یعنی حکمران ) حاجت مندوں سے حجاب میں رہنے ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 9065
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَاحْتَجَبَ عَنْ أُولِي الضَّعَفَةِ وَالْحَاجَةِ ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کے معاملے میں کسی چیز کا نگران بنے اور پھر کمزوروں اور حاجت مندوں سے حجاب میں رہے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے حجاب فرمائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (152/20) اخرجه احمد فى المسند (238/5)»
حدیث نمبر: 9066
وَعَنْ أَبِي السَّمَاحِ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ وَلِيَ مَنْ أَمْرِ النَّاسِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمِسْكِينِ وَالْمَظْلُومِ وَذِي الْحَاجَةِ ، أَغْلَقَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ دُونَ حَاجَتِهِ ، وَفَقْرُهُ أَفْقَرُ مَا يَكُونُ إِلَيْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى . وَأَبُو السَّمَاحِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسماح ازدی ، اپنے چچازاد جن کا تعلق صحابہ کرام سے ہے ، ان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں کے معاملے کا نگران بنے اور پھر مسکینوں مظلوموں اور حاجت مندوں کے لئے اپنا دروازہ بند کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اپنی رحمت کے دروازے بند کر دے گا حالانکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی اس سے زیادہ ضرورت ہو گی ، جتنی ( کسی حاجت مند یا کمزور شخص کو ) اس کی ضرورت ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوسماح نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7378) اخرجه احمد فى المسند (441/3)»
حدیث نمبر: 9067
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ضَرَبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا فَخَرَجُوا ، فَرَجَعَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَلَمْ تَكُنْ خَرَجْتَ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنِّي [ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثًا أُرِيدُ أَنْ أَضَعَهُ عِنْدَكَ مَخَافَةَ أَنْ لَا تَلْقَانِي ] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مِنْ وَلِيَ عَمَلًا فَحَجَبَ بَابَهُ عَنْ ذِي حَاجَةِ الْمُسْلِمِينَ ، حَجَبَهُ اللَّهُ أَنْ يَلِجَ بَابَ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِمَّتُهُ الدُّنْيَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِوَارِي ، فَإِنِّي بُعِثْتُ بِخَرَابِ الدُّنْيَا، وَلَمْ أُبْعَثُ بِعِمَارَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ جَبْرُونَ بْنِ عِيسَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ایک مہم بھیجی وہ لوگ روانہ ہوئے ابودحداح واپس آ گئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تم گئے نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حدیث ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے یہ چاہا کہ میں اسے آپ کے سامنے بیان کر دوں اس اندیشے کے تحت کہ بعد میں میری آپ سے ملاقات نہ ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے لوگو ! جو کسی کام کا نگران بنے اور پھر مسلمانوں کے حاجت مند افراد کے حوالے سے اپنے دروازے کو بند کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے محجوب کر دے گا کہ وہ جنت کے دروازے میں سے داخل ہو اور جس شخص کا مقصود دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ میرا پڑوس اس پر حرام کر دے گا کیونکہ مجھے دنیا کی خرابی کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے اس کی تعمیر کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جبرون بن عیسیٰ کے حوالے سے یحیی بن سلمان جفری سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9067
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/22)»