عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يَحْلِقْ عَانَتَهُ ، وَيُقَلِّمْ أَظَافِرَهُ ، وَيَجُزَّ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص زیر ناف بال نہیں صاف کرتا ناخن نہیں تراشتا اور مونچھیں چھوٹی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ خَبَرُ جِبْرِيلَ ؟ قَالَ : " وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظَافِرَكُمْ ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ ؟ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُعْرَفُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُعْرَفُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی اطلاع آپ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں تاخیر کیوں نہ ہو جبکہ تم لوگ میرے پاس موجود ہو تم لوگ نہ مسواک کرتے ہو نہ ناخن تراشتے ہو ، نہ مونچھیں چھوٹی کرتے ہو اور نہ ہی اپنی انگلیوں کے درمیانی حصے کو صاف کرتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکعب ہے جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی شناخت صرف اس حوالے سے ہوئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکعب ہے جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی شناخت صرف اس حوالے سے ہوئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي وَاصِلٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ فَصَافَحَنِي فَرَأَى فِي أَظْفَارِي طُولًا فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَهُوَ يَدَعُ أَظَافِرَهُ كَأَظَافِيرِ الطَّيْرِ تَجْتَمِعُ فِيهَا الْخَبَاثَةُ وَالْخُبْثُ وَالتَّفَثُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : سَبَقَهُ لِسَانُهُ - يَعْنِي وَكِيعًا - فَقَالَ : لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَإِنَّمَا هُوَ [ أَبُو أَيُّوبَ ] الْعَتَكِيُّ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا وَاصِلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : سَبَقَهُ لِسَانُهُ - يَعْنِي وَكِيعًا - فَقَالَ : لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَإِنَّمَا هُوَ [ أَبُو أَيُّوبَ ] الْعَتَكِيُّ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا وَاصِلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
ابوواصل بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے میرے ساتھ مصافحہ کیا انہوں نے میرے ناخن بڑے دیکھے ، تو فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : تم میں سے کوئی ایک شخص آسمان کی خبر کے بارے میں دریافت کرتا ہے حالانکہ اپنے ناخنوں کو یوں چھوڑ دیتا ہے جس طرح پرندوں کے ناخن ہوتے ہیں اور اس میں خباثت اور خبیث چیزیں اور گندگی اکٹھے ہو جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں ان کی یعنی وکیع کی زبان پھسل گئی تھی انہوں نے یہ کہا: تھا : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی حالانکہ وہ ابوایوب عتکی ہیں ( جن سے راوی کی ملاقات ہوئی تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوواصل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں ان کی یعنی وکیع کی زبان پھسل گئی تھی انہوں نے یہ کہا: تھا : سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی حالانکہ وہ ابوایوب عتکی ہیں ( جن سے راوی کی ملاقات ہوئی تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوواصل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الطَّهَارَاتُ أَرْبَعٌ : قَصُّ الشَّارِبِ ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَالسِّوَاكُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” طہارت چار قسم کی ہوتی ہے مونچھ چھوٹی رکھنا زیر ناف بال صاف کرنا ناخن تراشنا اور مسواک کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَهِمُ ؟ قَالَ : " مَا لِي لَا أُوهَمُ وَرُفْغُ أَحَدِكُمْ بَيْنَ ظُفْرِهِ وَأَنَامِلِهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو وہم لاحق ہو جاتا ہے ؟ ( شاید یہاں مراد یہ ہے کہ بعض اوقات آپ تلاوت کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے وہم لاحق کیوں نہ ہو ؟ جب کہ تم میں سے کسی ایک شخص کی گندگی اس کے ناخنوں اور پوروں کے درمیان موجود ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں اسی طرح امام طبرانی کے رجال بھی ہیں اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں اسی طرح امام طبرانی کے رجال بھی ہیں اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا وَشَارِبُهُ طَوِيلٌ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِمِقَصٍّ وَسِوَاكٍ " فَجَعَلَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِهِ ثُمَّ أَخَذَ مَا جَاوَزَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْهِرٍ قَاضِي جَبَلٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْهِرٍ قَاضِي جَبَلٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا جس کی مونچھیں لمبی تھیں آپ نے فرمایا : تراشنے والا آلہ اور مسواک لے کر آؤ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہونٹ کے کنارے پر مسواک رکھی اور پھر جو بال اس سے آگے آ رہے تھے انہیں کاٹ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے جو جبل کا قاضی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے جو جبل کا قاضی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ مَيْلِ بِنْتِ مَشْرَحٍ قَالَتْ : رَأَيْتُ أَبِي يُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ وَيَدْفِنُهُ وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ ذَلِكَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَأَبُوهُ وُثِّقَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَأَبُوهُ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
میل بنت مشرح بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے والد کو دیکھا جو ناخن تراش رہے تھے اور انہیں دفن کر رہے تھے انہوں نے یہ بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں عبیداللہ بن سلمہ بن وہرام کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ اور یہ دونوں ضعیف ہیں اس کے والد کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں عبیداللہ بن سلمہ بن وہرام کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ اور یہ دونوں ضعیف ہیں اس کے والد کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ ، لَا يَعْبِطُوا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا أَعْمَالَهُمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ لَا يَخْدِشُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " . وَفِيهِ مُرْجِيُّ بْنُ رَجَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا أَعْمَالَهُمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ لَا يَخْدِشُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " . وَفِيهِ مُرْجِيُّ بْنُ رَجَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا پھر آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تم اپنے گھر واپس جاؤ گے ، تو ان لوگوں سے یہ کہنا کہ وہ اپنے اعمال کو اچھا رکھیں اور تم انہیں یہ کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش کے رکھیں اور دودھ دوہتے ہوئے اپنے جانوروں کو ( اپنے بڑے ناخنوں کے ذریعے ) زخمی نہ کریں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم اپنے گھر جاؤ تو ان لوگوں کو یہ کہنا کہ وہ اپنے کام کاج اچھے طریقے سے کریں اور انہیں یہ کہنا کہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے ہوئے وہ اپنے جانوروں کے تھنوں کو ان کے ذریعے زخمی نہ کر دیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مرجی بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم اپنے گھر جاؤ تو ان لوگوں کو یہ کہنا کہ وہ اپنے کام کاج اچھے طریقے سے کریں اور انہیں یہ کہنا کہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے ہوئے وہ اپنے جانوروں کے تھنوں کو ان کے ذریعے زخمی نہ کر دیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مرجی بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَفِّرُوا اللِّحَى ، وَخُذُوا مِنَ الشَّوَارِبِ ، وَانْتِفُوا الْآبَاطَ ، وَاحْدِرُوا الْفَلْقَتَيْنِ " .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” داڑھی بڑھا کے رکھو اور مونچھیں چھوٹی کر لیا کرو بغلوں کے بال صاف کرو اور زیر ناف بال صاف کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ شُرْبَ الْخَمْرِ وَثَمَنَهَا " .
قَالَ : " وَقُصُّوا الشَّوَارِبَ ، وَاعْفُوا اللِّحَى ، وَلَا تَمْشُوا فِي الْأَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَيْكُمُ الْإِزَارُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّةَ غَيْرِنَا " .
قُلْتُ : وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْبُيُوعِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
قَالَ : " وَقُصُّوا الشَّوَارِبَ ، وَاعْفُوا اللِّحَى ، وَلَا تَمْشُوا فِي الْأَسْوَاقِ إِلَّا وَعَلَيْكُمُ الْإِزَارُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ عَمِلَ سُنَّةَ غَيْرِنَا " .
قُلْتُ : وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْبُيُوعِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب پینے اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیدیا ہے آپ نے یہ بھی فرمایا : مونچھیں چھوٹی رکھو داڑھی بڑھا کے رکھو اور بازاروں میں جب چلو تو تم پر تہبند موجود ہونا چاہیے وہ شخص ہم میں سے نہیں ہو گا ، جو ہمارے علاوہ کسی کی سنت پر عمل کرے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مکمل روایت خرید و فروخت کے متعلق باب میں موجود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔