کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مونچھیں ، داڑھی اور دیگر امور کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8840
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا غَضِبَ فَتَلَ شَارِبَهُ وَنَفَخَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ إِلَّا أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب غصے میں ہوا کرتے تھے ، تو اپنی مونچھ مروڑا کرتے تھے اور گہرے سانس لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہے البتہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور مامون ہے البتہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 8841
وَعَنْ حَسَّانَ أَنَّ أَبَا هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ كَانَ لَهُ شَارِبٌ يَعْقِدُهُ خَلْفَ قَفَاهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا بَالُ شَارِبِكَ ، وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَخْذِ الشَّارِبِ مَا قَدْ جَاءَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَخَذْتُ شَارِبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَتَى أَخَذْتَ شَارِبَكَ ؟ " قُلْتُ : السَّاعَةَ . قَالَ : " فَلَا تَأْخُذْهُ حَتَّى تَلْقَانِي " فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَلْقَاهُ ، فَلَنْ آخُذَهُ حَتَّى أَلْقَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْأُرْدُنِّيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
حسان بیان کرتے ہیں : ابوہاشم بن عتبہ کی مونچھیں تھیں جنہیں وہ گردن تک لے جا سکتے تھے میں نے ان سے کہا: آپ کی مونچھوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حکم منقول ہے کہ مونچھیں چھوٹی رکھنی چاہئیں ، تو انہوں نے جواب دیا : میں نے مونچھیں چھوٹی رکھی ہوئی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک مونچھوں کی جگہ پر پھیرا اور فرمایا تم نے مونچھیں کب تراشی تھیں ؟ میں نے عرض کی : ابھی تھوڑی دیر پہلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم انہیں اس وقت تک نہ تراشنا جب تک تمہاری مجھ سے ملاقات نہیں ہوتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات سے پہلے ہی آپ کا وصال ہو گیا تو میں انہیں نہیں تراشوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن سلمہ اردنی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن سلمہ اردنی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 8842
وَعَنْ أُمِّ عَيَّاشٍ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحْفِي شَارِبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عیاش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مونچھیں پست رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن روح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن روح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8843
وَعَنْ عُبَيْدٍ قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالِاحْتِفَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھیں پست رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8844
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مِنْ هَذَا ، وَدَعُوا هَذَا " يَعْنِي : يَأْخُذُ مِنْ عُنْفُقَتِهِ ، وَيَدَعْ مِنْ لِحْيَتِهِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا الْأَخْذُ مِنَ الْعُنْفُقَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان کو تراش لو اور اسے چھوڑ دو “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ نچلے ہونٹ کے نیچے والے حصے کو تراش لو اور داڑھی کو چھوڑ دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تا ہم اس میں نچلے ہونٹ کے نیچے والے حصے کو تراشنے کا حکم نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابوفاختہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تا ہم اس میں نچلے ہونٹ کے نیچے والے حصے کو تراشنے کا حکم نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابوفاختہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8845
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ يُعْفُونَ شَوَارِبَهُمْ ، وَيُحْفُونَ لِحَاهُمْ ، فَخَالِفُوهُمْ ، فَأَعْفُوا اللِّحَى ، وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مشرکین مونچھیں بڑی رکھتے ہیں اور داڑھی چھوٹی رکھتے ہیں ، تو تم ان کے خلاف کرو تم داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرواؤ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک راوی عمرو بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک راوی عمرو بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8846
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَالِفُوا الْمَجُوسَ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَوْفِرُوا اللِّحَى " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ بَعْدَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : مجوسیوں کے برخلاف کرو مونچھیں تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے وہ ضعیف اور متروک ہے ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث بعد میں بھی آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے وہ ضعیف اور متروک ہے ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث بعد میں بھی آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 8847
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ رَأَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَسَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، وَأَبَا أُسَيْدٍ الْبَدْرِيَّ ، وَرَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَأْخُذُونَ مِنَ الشَّوَارِبِ كَأَخْذِ الْحَلْقِ ، وَيُعْفُونَ اللِّحَى ، وَيَنْتِفُونَ الْآبَاطَ . وَفِي رِوَايَةٍ : وَيَقُصُّونَ الْأَظْفَارَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعُثْمَانُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن عبیداللہ بن ابورافع بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سیدنا ابواسید بدری رضی اللہ عنہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ یہ حضرات مونچھیں اتنی چھوٹی کر لیتے تھے کہ مونڈوانے کی مانند ہو جاتا تھا ، اور داڑھی بڑھا کے رکھتے تھے یہ حضرات بغلوں سے بال نوچ لیتے تھے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : یہ ناخن تراش لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ عثمان نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس کی اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ عثمان نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس کی اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8848
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا وَشَارِبُهُ طَوِيلٌ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِمِقَصٍّ وَسِوَاكٍ " فَجَعَلَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِهِ وَأَخَذَ مَا جَاوَزَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ملاحظہ فرمایا جس کی مونچھیں بڑی تھیں ، تو آپ نے فرمایا : میرے پاس قینچی اور مسواک لے کے آؤ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک اس کے ہونٹوں کے کنارے پر رکھی اور جو اس سے آگے بال آ رہے تھے انہیں کاٹ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مسہر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 8849
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ جَزِّ السِّبَالِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عِنْدَ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کو کاٹ دینے ( شاید مونڈ دینا مراد ہے ) سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8850
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُصُّوا الشَّارِبَ مَعَ الشِّفَاهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمیر یمانی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مونچھیں ہونٹوں تک چھوٹی رکھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم بن طہمان ہے ، اور وہ متروک ہے -
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم بن طہمان ہے ، اور وہ متروک ہے -
حدیث نمبر: 8851
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطُرُّ شَارِبَهُ طَرًّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَمَنْصُورُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مونچھوں کو اطراف میں بڑا کیا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ، اور ایک راوی منصور بن اسماعیل ہے عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ، اور ایک راوی منصور بن اسماعیل ہے عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8852
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُمُّونَ شَوَارِبَهُمْ وَيُعْفُونَ لِحَاهُمْ وَيُصَفِّرُونَهَا ، أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، وَالْحَجَّاجَ بْنَ عَامِرٍ الثُّمَّالِيَّ ، وَالْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرْبَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ ، وَعُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، كَانُوا يَقُمُّونَ مَعَ طَرَفِ الشَّفَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے پانچ صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ اپنی مونچھیں چھوٹی رکھتے تھے اور داڑھیاں بڑھا کے رکھتے تھے ( وہ حضرات یہ ہیں : ) سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سیدنا حجاج بن عامر ثمالی رضی اللہ عنہ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ یہ حضرات ہونٹوں تک مونچھیں چھوٹی رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 8853
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ خِفَّةُ لِحْيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ الْغَرَقِ قَالَ الْأَزْدِيُّ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آدمی کی سعادت مندی میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اس کی داڑھی ہلکی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن غرق ہے ازدی کہتے ہیں : وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن غرق ہے ازدی کہتے ہیں : وہ کذاب ہے ۔