حدیث نمبر: 8861
وَعَنْ سَوَادَةَ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ لِي بِذَوْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا غِذَاءَ رِبَاعِهِمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ ، لَا يَعْبِطُوا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِكَ فَمُرْهُمْ فَلْيُحْسِنُوا أَعْمَالَهُمْ ، وَمُرْهُمْ فَلْيُقَلِّمُوا أَظْفَارَهُمْ لَا يَخْدِشُوا بِهَا ضُرُوعَ مَوَاشِيهِمْ إِذَا حَلَبُوا " . وَفِيهِ مُرْجِيُّ بْنُ رَجَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سوادہ بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹ دینے کا حکم دیا پھر آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تم اپنے گھر واپس جاؤ گے ، تو ان لوگوں سے یہ کہنا کہ وہ اپنے اعمال کو اچھا رکھیں اور تم انہیں یہ کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش کے رکھیں اور دودھ دوہتے ہوئے اپنے جانوروں کو ( اپنے بڑے ناخنوں کے ذریعے ) زخمی نہ کریں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب تم اپنے گھر جاؤ تو ان لوگوں کو یہ کہنا کہ وہ اپنے کام کاج اچھے طریقے سے کریں اور انہیں یہ کہنا کہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے ہوئے وہ اپنے جانوروں کے تھنوں کو ان کے ذریعے زخمی نہ کر دیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مرجی بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (484/3)»