حدیث نمبر: 8855
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ خَبَرُ جِبْرِيلَ ؟ قَالَ : " وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظَافِرَكُمْ ، وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ ، وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَبُو كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَا يُعْرَفُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی اطلاع آپ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں تاخیر کیوں نہ ہو جبکہ تم لوگ میرے پاس موجود ہو تم لوگ نہ مسواک کرتے ہو نہ ناخن تراشتے ہو ، نہ مونچھیں چھوٹی کرتے ہو اور نہ ہی اپنی انگلیوں کے درمیانی حصے کو صاف کرتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوکعب ہے جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی شناخت صرف اس حوالے سے ہوئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12224) اخرجه احمد فى المسند (2180)»