کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم نجوم اور علم حروف کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ، وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ ، وَلَا تُنْزِ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ : إِنْزَاءُ الْحُمُرِ عَلَى الْخَيْلِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ الْحِنَّاءِ ، لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! اچھی طرح وضو کرو ، خواہ یہ تم پر گراں گزرے اور تم صدقہ نہ کھانا ، اور تم گدھے کی گھوڑی کے ذریعے جفتی نہ کروانا اور تم نجومیوں کے ساتھ نہ بیٹھنا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس میں سے گدھے کی گھوڑی کے ساتھ جفتی والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بارون بن مسلم جو صاحب حناء ہے ۔ ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے حاکم نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کے مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8475
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ طَهَّرَ هَذِهِ الْقَرْيَةَ مِنَ الشِّرْكِ إِنْ لَمْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو شرک سے پاک کر دیا ہے ، اگر ستارے ( یا علم نجوم ) ان لوگوں کو گمراہ نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ کہا: ہے اور ( دوسرے ) لوگوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8476
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ النَّظَرِ فِي النُّجُومِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصَمُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذُكِرَ عَنْ أَحْمَدَ : أَنَّهُ وَثَّقَهُ ، وَأَنْكَرَ أَبُو حَاتِمٍ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم نجوم میں غور کرنے ( یعنی سیکھنے یا اس سے متعلق ہونے ) سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ اصم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ امام أحمد کے حوالے سے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ، اور ابوحاتم نے اس راوی کے حوالے سے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8477
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُبَّ مُعَلِّمِ [ حُرُوفِ ] أَبِي جَادٍ دَارِسٌ فِي النُّجُومِ لَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کئی ( حروف ابجد کی ) تعلیم دینے والے ، علم نجوم سکھاتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8478
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10980)»