مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي النُّجُومِ وَالْحُرُوفِ . باب: علم نجوم اور علم حروف کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ، وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ ، وَلَا تُنْزِ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ : إِنْزَاءُ الْحُمُرِ عَلَى الْخَيْلِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ الْحِنَّاءِ ، لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! اچھی طرح وضو کرو ، خواہ یہ تم پر گراں گزرے اور تم صدقہ نہ کھانا ، اور تم گدھے کی گھوڑی کے ذریعے جفتی نہ کروانا اور تم نجومیوں کے ساتھ نہ بیٹھنا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس میں سے گدھے کی گھوڑی کے ساتھ جفتی والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بارون بن مسلم جو صاحب حناء ہے ۔ ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے حاکم نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔