عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ الرَّجُلَ بِإِذْنِ اللَّهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نظر “ اللہ کے حکم کے تحت آدمی کو یوں خراب کر دیتی ہے ، یہاں تک کہ وہ حالق کے طور پر اوپر جاتا ہے ، اور اوپر سے نیچے گر جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نِصْفُ مَا يُحْفَرُ لِأُمَّتِي مِنَ الْقُبُورِ ، مِنَ الْعَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کی جو قبریں کھودی جائیں گی ، اُن میں سے نصف ، نظر لگنے کی وجہ سے ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ دمشقی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عروہ دمشقی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " أَكْثَرُ مَنْ يَمُوتُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ كِتَابِ اللَّهِ وَقَضَائِهِ وَقَدَرِهِ بِالْأَنْفُسِ " . ¤ قَالَ الْبَزَّارُ : يَعْنِي بِالْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا الطَّالِبِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قضاء وقدر کے بعد ، میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر لگنے کی وجہ سے ہوں گی “ ۔ امام بزار کہتے ہیں : اس سے مراد نظر لگنا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالب بن حبیب بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف طالب بن حبیب بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " الْعَيْنُ حَقٌّ تُسْتَنْزَلَ الْحَالِقُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ دُوَيْدٌ الْبَصَرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نظر لگنا ، حق ہے ، یہاں تک کہ حالق نیچے آ جاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صیح “ میں اس حدیث کا صرف یہ حصہ منقول ہے : ” نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید بصری ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید بصری ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " الْعَيْنُ حَقٌّ ، وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نظر لگنا حق ہے ، اور اس کے ساتھ شیطان موجود ہوتا ہے ، اور انسان کا حسد ہوتا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ حصہ منقول ہے : ” نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ حصہ منقول ہے : ” نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ وَسَارَ مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِشِعْبِ الْخَرَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ ، فَلُبِطَ سَهْلٌ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَلَا يُفِيقُ ، قَالَ : " هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مَنْ أَحَدٍ ؟ " قَالُوا : عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ؟ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ ؟ ! " ثُمَّ قَالَ : اغْتَسِلْ . فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَرْفِقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ، ثُمَّ صَبَّ ذَلِكَ الْمَاءَ عَلَيْهِ ، يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ يُلْقِي الْقَدَحَ وَرَاءَهُ ، فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : وَشَرِبَ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، یہ لوگ مکہ کی طرف جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ” جمعہ “ کے مقام پر موجود ” خراز “ کی گھاٹی میں ، سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنا شروع کیا ، وہ ایسے شخص تھے ، جو گورے چٹے تھے ان کا جسم اور جلد خوبصورت تھے ، عامر بن ربیعہ جس کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا ۔ اس نے انہیں غسل کرتے ہوئے دیکھ لیا ، تو کہا: میں نے آج کی طرح کی خوبصورت جلد ، تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی نہیں دیکھی ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ سہل کے حوالے سے کچھ کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! یہ نہ ، تو سر اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں ہوش آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے حوالے سے کسی پر الزام عائد کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا: عامر بن ربیعہ پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جب تم نے وہ چیز دیکھی ، جو تمہیں اچھی لگی ، تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں دی ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غسل کرو ! انہوں نے اپنے چہرے دونوں بازؤں ، دونوں کہنیوں ، دونوں گھٹنوں ، پاؤں کے کناروں اور تہبند کے اندرونی حصے کو ایک پیالے میں دھویا ، پھر وہ پانی ان صاحب پر ڈال دیا گیا ، وہ اُن صاحب کے سر اور ان کی پشت پر ڈالا گیا ، پھر پیالہ ان کے پیچھے رکھا گیا اور وہاں بھی ایسا کیا گیا ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ، یوں جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف لاحق نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے اس پانی کو پیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے اس پانی کو پیا “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا : فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَ فِيهِ : ¤ " مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا رَأَى مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَنْ يُبَرِّكَ عَلَيْهِ ؟ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان صاحب کے پاس سے گزرا اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جب کوئی شخص اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے اچھی لگتی ہے خواہ اس کا تعلق اس کے وجود سے ہو ، یا اُس کے مال سے ہو ، تو کیا چیز اس کے لئے رکاوٹ بنتی ہے کہ وہ اُس کے لئے برکت کی دعا کرے ، بے شک نظر لگنا ، ۔ حق ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخَرَّارِ دَخَلَ مَاءً يَغْتَسِلُ ، وَكَانَ رَجُلًا وَضَّاءً ، فَمَرَّ بِهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ حُسْنَ شَيْءٍ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ ، فَمَا لَبِثَ سَهْلٌ أَنْ لُبِطَ بِهِ ، فَدَعَا لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ؟ مَنْ تَتَّهِمُونَهُ بِهِ ؟ " قَالُوا : عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ . فَدَعَا عَامِرًا ، وَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَأَمَرَ عَامِرًا فَغَسَلَ وَجْهَهُ فِي الْمَاءِ ، وَأَطْرَافَ يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ ، وَأَطْرَافَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَبْعَيْ إِزَارِ عَامِرٍ وَدَاخِلَتَهُ ، فَغَمَرَهَا فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ الْإِنَاءَ عَلَى رَأْسِ سَهْلٍ ، وَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ دُبُرِهِ ، فَأُطْلِقَ سَهْلٌ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، یہاں تک کہ جب وہ ” خراز “ کے مقام پر پہنچنے ، تو وہ پانی میں غسل کرنے کے لئے داخل ہوئے ، وہ ایک وجیہ و شکیل شخص تھے ، عامر بن ربیعہ ان کے پاس سے گزرے ، تو بولے : میں نے آج کی طرح کی خوبصورتی اور اتنی ( خوبصورت ) جلد تو کبھی کسی پردہ نشین عورت کی بھی نہیں دیکھی ، تو اسی وقت سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اس وقت بے ہوش ہو کر پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور فرمایا : کوئی شخص اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرنا چاہتا ہے ؟ تم کس پر اس کے حوالے سے الزام عائد کرتے ہو ، لوگوں نے کہا: عامر بن ربیعہ پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو بلوایا ، آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں برتن موجود تھا ، آپ نے عامر کو حکم دیا ، عامر نے اس پانی میں منہ دھویا ، دونوں بازو دھوئے ، دونوں گھٹنے دھوئے پاؤں کے کنارے دھوئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کے تہبند کے ڈب کو پکڑا اور انہیں پانی میں ڈبو دیا ، پھر وہ پانی آپ نے سہل کے سر پر بہایا اور ان کی پشت پر برتن کو اوندھا کر دیا ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ یوں کھڑے ہو گئے ، جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَى حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : أَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَمَرَهُ فَحَسَا مِنْهُ حُسْوَاتٍ . وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بے شک نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوامامہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح امام ابن ماجہ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ انہوں نے اس میں سے چند گھونٹ بھی بھرے تھے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوامامہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح امام ابن ماجہ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ انہوں نے اس میں سے چند گھونٹ بھی بھرے تھے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ نَلْتَمِسُ حُمُرًا ، فَوَجَدْنَا حُمُرًا وَغَدِيرًا ، قَالَ : وَكَانَ أَحَدُنَا يَسْتَحِي أَنْ يَغْتَسِلَ وَأَحَدٌ يَرَاهُ ، فَاسْتَتَرَ مِنِّي حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ فَعَلَ ، نَزَعَ جُبَّةً عَلَيْهِ مِنْ كِسَاءٍ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَاءَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ نَظْرَةً فَأَعْجَبَنِي خَلْقُهُ ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي ، فَأَخَذَتْهُ قَعْقَعَةٌ وَهُوَ فِي الْمَاءِ ، فَدَعَوْتُهُ فَلَمْ يُجِبْنِي ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : " أَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصْبَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " قُمْ " فَقَامَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَوْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ ، فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ هِنْدٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ گدھے تلاش کرنے کے لئے نکلے ہمیں ایک جگہ پر گدھے بھی ملے اور کنواں بھی مل گیا ، راوی کہتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے شرم محسوس کرتا تھا کہ جب وہ غسل کر رہا ہو ، تو کوئی اُسے دیکھے ، تو سہل نے مجھ سے پردہ کر لیا ، یہاں تک کہ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ پردے میں چلے گئے ، تو انہوں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو ، جو جبہ کے طور پر لی ہوئی تھی ، اسے اتارا اور پانی میں داخل ہو گئے ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی جسامت مجھے اچھی لگی میری نظر انہیں لگ گئی ، انہیں کپکپاہٹ نے اپنی گرفت میں لے لیا ، حالانکہ اس وقت وہ پانی میں تھے ، میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی گرمی ٹھنڈک اور تکلیف رخصت ہو گئی ، پھر آپ نے فرمایا : تم کھڑے ہو جاؤ ! جب وہ کھڑے ہو گئے ، تو آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی جان یا مال کے حوالے سے ، یا اپنے بھائی کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے ، تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے ، کیونکہ نظر لگنا حق ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن ہند ہے ، اور وہ مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار دیا یا نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن ہند ہے ، اور وہ مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار دیا یا نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عُلَمَاءَنَا يَصْنَعُونَ ، أَنْ يُؤْتَى الرَّجُلُ الَّذِي يُعْيِنُ صَاحِبَهُ بِالْقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ ، فَيُمْسِكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَيَدْخُلُ الَّذِي يُعَيِّنُ صَاحِبَهُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ ، فَيَصُبُّ عَلَى وَجْهِهِ الْمَاءَ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُسْرَى فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةٍ فِي الْقَدَحِ ، وَهُوَ فِي يَدِهِ إِلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى مِنْ عِنْدِ أُصُولِ الْأَصَابِعِ ، وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيُصِبُّ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ ، فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ ، فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے علماء کو جس طرح کرتے ہوئے پایا ہے ، اس میں غسل کا طریقہ یہ ہے : اُس شخص کو لایا جائے گا ، جس نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ، اس کے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا ، جس میں پانی موجود ہو گا ، اور اس کے لئے اسے زمین سے ذرا بلند کر کے پکڑ کے رکھا جائے گا ، جس شخص نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ، وہ اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ، اور پھر اپنے چہرے پر پانی ڈال کر پیالے میں ڈال دے گا ، ایسا ایک مرتبہ کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا اور اپنے دائیں بازو پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ، جو واپس پیالے میں جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کر کے اس کے ذریعے بایاں ہاتھ ایک مرتبہ دھوئے گا ، یہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے جائیں گے ، پھر وہ دونوں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ، اور پھر ایک ہی مرتبہ پانی ڈال کر اپنے سینے کو دھوئے گا ، جس کا بقایا پانی پیالے میں جائے ، پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ اس پانی میں داخل کرے گا ، چلو میں پانی لے گا ، اور اسے اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے گا ، وہ ایک مرتبہ ڈالے گا ، یوں کہ بقایا پانی پیالے میں چلا جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرے گا ، اور اس کے ذریعے دائیں ہاتھ پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ، جو بقایا پانی پیالے میں چلا جائے ، اور پھر وہ اپنا ہاتھ گردن تک لے کے جائے گا ( شاید یہاں یہ مراد ہے کہ کہنی تک لے کے جائے گا ) پھر وہ بائیں کہنی کے ساتھ بھی اسی طرح کرے گا ، پھر وہ اپنے دائیں پاؤں کے اوپری حصے کے ساتھ اس طرح کرے گا ، جو اس کی انگلیوں کی جڑوں سے شروع ہو گا پھر بائیں پاؤں کے ساتھ اسی طرح کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ برتن میں داخل کر کے پانی اپنے دائیں گھٹنے کی پشت پر ڈالے گا ، پھر بائیں گھٹنے کے ساتھ ایسا ہی کرے گا ، پھر وہ اپنے تہبند کا اندرونی حصہ دائیں طرف سے پانی میں ڈبوئے گا ، پھر وہ شخص اُٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالہ موجود تھا ، وہ پیالے کو لے کے جائے گا ، پھر وہ اپنے دائیں گھٹنے پر پانی بہائے گا ، پھر وہ شخص اٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالا موجود تھا ، اور پھر وہ اس شخص پر پانی ڈالے گا جس کو نظر لگی تھی ، وہ اس کے پیچھے کی طرف سے ڈالے گا ، اور پھر وہ اس کے پیچھے ہی پیالے کو زمین پر اوندھا کر کے رکھ دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔