مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ باب: نظر لگنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8427
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا : فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَالَ فِيهِ : ¤ " مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا رَأَى مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَنْ يُبَرِّكَ عَلَيْهِ ؟ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان صاحب کے پاس سے گزرا اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جب کوئی شخص اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھتا ہے ، جو اسے اچھی لگتی ہے خواہ اس کا تعلق اس کے وجود سے ہو ، یا اُس کے مال سے ہو ، تو کیا چیز اس کے لئے رکاوٹ بنتی ہے کہ وہ اُس کے لئے برکت کی دعا کرے ، بے شک نظر لگنا ، ۔ حق ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی اسناد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔