مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ باب: نظر لگنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : الْغُسْلُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عُلَمَاءَنَا يَصْنَعُونَ ، أَنْ يُؤْتَى الرَّجُلُ الَّذِي يُعْيِنُ صَاحِبَهُ بِالْقَدَحِ فِيهِ الْمَاءُ ، فَيُمْسِكُ لَهُ مَرْفُوعًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَيَدْخُلُ الَّذِي يُعَيِّنُ صَاحِبَهُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْمَاءِ ، فَيَصُبُّ عَلَى وَجْهِهِ الْمَاءَ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ الْيُسْرَى فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى صَبَّةً وَاحِدَةً إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةً فِي الْقَدَحِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيَصُبُّ عَلَى مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُمْنَى صَبَّةً وَاحِدَةٍ فِي الْقَدَحِ ، وَهُوَ فِي يَدِهِ إِلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي مَرْفِقِ يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ الْيُمْنَى مِنْ عِنْدِ أُصُولِ الْأَصَابِعِ ، وَالْيُسْرَى كَذَلِكَ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُسْرَى فَيُصِبُّ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهُ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَغْمِسُ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ ، فَيَصُبُّهُ عَلَى ظَهْرِ رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُومُ الَّذِي فِي يَدِهِ الْقَدَحُ بِالْقَدَحِ ، فَيَصُبُّهُ عَلَى رَأْسِ الْمَعْيُونِ مِنْ وَرَائِهِ ، ثُمَّ يَكْفَأُ الْقَدَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ إِلَى الزُّهْرِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن شہاب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے علماء کو جس طرح کرتے ہوئے پایا ہے ، اس میں غسل کا طریقہ یہ ہے : اُس شخص کو لایا جائے گا ، جس نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ، اس کے پاس ایک پیالہ لایا جائے گا ، جس میں پانی موجود ہو گا ، اور اس کے لئے اسے زمین سے ذرا بلند کر کے پکڑ کے رکھا جائے گا ، جس شخص نے اپنے ساتھی کو نظر لگائی ہے ، وہ اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ، اور پھر اپنے چہرے پر پانی ڈال کر پیالے میں ڈال دے گا ، ایسا ایک مرتبہ کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا اور اپنے دائیں بازو پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ، جو واپس پیالے میں جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کر کے اس کے ذریعے بایاں ہاتھ ایک مرتبہ دھوئے گا ، یہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے جائیں گے ، پھر وہ دونوں ہاتھ پانی میں داخل کرے گا ، اور پھر ایک ہی مرتبہ پانی ڈال کر اپنے سینے کو دھوئے گا ، جس کا بقایا پانی پیالے میں جائے ، پھر وہ اپنا بایاں ہاتھ اس پانی میں داخل کرے گا ، چلو میں پانی لے گا ، اور اسے اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر ڈالے گا ، وہ ایک مرتبہ ڈالے گا ، یوں کہ بقایا پانی پیالے میں چلا جائے گا ، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرے گا ، اور اس کے ذریعے دائیں ہاتھ پر ایک مرتبہ پانی ڈالے گا ، جو بقایا پانی پیالے میں چلا جائے ، اور پھر وہ اپنا ہاتھ گردن تک لے کے جائے گا ( شاید یہاں یہ مراد ہے کہ کہنی تک لے کے جائے گا ) پھر وہ بائیں کہنی کے ساتھ بھی اسی طرح کرے گا ، پھر وہ اپنے دائیں پاؤں کے اوپری حصے کے ساتھ اس طرح کرے گا ، جو اس کی انگلیوں کی جڑوں سے شروع ہو گا پھر بائیں پاؤں کے ساتھ اسی طرح کرے گا ، پھر بایاں ہاتھ برتن میں داخل کر کے پانی اپنے دائیں گھٹنے کی پشت پر ڈالے گا ، پھر بائیں گھٹنے کے ساتھ ایسا ہی کرے گا ، پھر وہ اپنے تہبند کا اندرونی حصہ دائیں طرف سے پانی میں ڈبوئے گا ، پھر وہ شخص اُٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالہ موجود تھا ، وہ پیالے کو لے کے جائے گا ، پھر وہ اپنے دائیں گھٹنے پر پانی بہائے گا ، پھر وہ شخص اٹھ جائے گا جس کے ہاتھ میں پیالا موجود تھا ، اور پھر وہ اس شخص پر پانی ڈالے گا جس کو نظر لگی تھی ، وہ اس کے پیچھے کی طرف سے ڈالے گا ، اور پھر وہ اس کے پیچھے ہی پیالے کو زمین پر اوندھا کر کے رکھ دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ زہری تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔