حدیث نمبر: 8430
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ نَلْتَمِسُ حُمُرًا ، فَوَجَدْنَا حُمُرًا وَغَدِيرًا ، قَالَ : وَكَانَ أَحَدُنَا يَسْتَحِي أَنْ يَغْتَسِلَ وَأَحَدٌ يَرَاهُ ، فَاسْتَتَرَ مِنِّي حَتَّى إِذَا رَأَى أَنْ قَدْ فَعَلَ ، نَزَعَ جُبَّةً عَلَيْهِ مِنْ كِسَاءٍ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَاءَ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ نَظْرَةً فَأَعْجَبَنِي خَلْقُهُ ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي ، فَأَخَذَتْهُ قَعْقَعَةٌ وَهُوَ فِي الْمَاءِ ، فَدَعَوْتُهُ فَلَمْ يُجِبْنِي ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : " أَذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصْبَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " قُمْ " فَقَامَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مَالِهِ أَوْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ ، فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمَيَّةُ بْنُ هِنْدٍ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ گدھے تلاش کرنے کے لئے نکلے ہمیں ایک جگہ پر گدھے بھی ملے اور کنواں بھی مل گیا ، راوی کہتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے شرم محسوس کرتا تھا کہ جب وہ غسل کر رہا ہو ، تو کوئی اُسے دیکھے ، تو سہل نے مجھ سے پردہ کر لیا ، یہاں تک کہ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ پردے میں چلے گئے ، تو انہوں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو ، جو جبہ کے طور پر لی ہوئی تھی ، اسے اتارا اور پانی میں داخل ہو گئے ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی جسامت مجھے اچھی لگی میری نظر انہیں لگ گئی ، انہیں کپکپاہٹ نے اپنی گرفت میں لے لیا ، حالانکہ اس وقت وہ پانی میں تھے ، میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی گرمی ٹھنڈک اور تکلیف رخصت ہو گئی ، پھر آپ نے فرمایا : تم کھڑے ہو جاؤ ! جب وہ کھڑے ہو گئے ، تو آپ نے فرمایا : جب کوئی شخص اپنی جان یا مال کے حوالے سے ، یا اپنے بھائی کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے ، تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے ، کیونکہ نظر لگنا حق ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی امیہ بن ہند ہے ، اور وہ مستور ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار دیا یا نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7195) اخرجه احمد فى المسند (447/3)»