حدیث نمبر: 8429
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَى حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : أَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَمَرَهُ فَحَسَا مِنْهُ حُسْوَاتٍ . وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بے شک نظر لگنا ، حق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوامامہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح امام ابن ماجہ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ انہوں نے اس میں سے چند گھونٹ بھی بھرے تھے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5579)»