مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ باب: نظر لگنے کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ وَسَارَ مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِشِعْبِ الْخَرَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ ، فَلُبِطَ سَهْلٌ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَلَا يُفِيقُ ، قَالَ : " هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مَنْ أَحَدٍ ؟ " قَالُوا : عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ؟ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ ؟ ! " ثُمَّ قَالَ : اغْتَسِلْ . فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَرْفِقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ، ثُمَّ صَبَّ ذَلِكَ الْمَاءَ عَلَيْهِ ، يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ يُلْقِي الْقَدَحَ وَرَاءَهُ ، فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : وَشَرِبَ مِنْهُ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، یہ لوگ مکہ کی طرف جا رہے تھے ، یہاں تک کہ ” جمعہ “ کے مقام پر موجود ” خراز “ کی گھاٹی میں ، سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنا شروع کیا ، وہ ایسے شخص تھے ، جو گورے چٹے تھے ان کا جسم اور جلد خوبصورت تھے ، عامر بن ربیعہ جس کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا ۔ اس نے انہیں غسل کرتے ہوئے دیکھ لیا ، تو کہا: میں نے آج کی طرح کی خوبصورت جلد ، تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی نہیں دیکھی ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ سہل کے حوالے سے کچھ کریں گے ؟ اللہ کی قسم ! یہ نہ ، تو سر اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں ہوش آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کے حوالے سے کسی پر الزام عائد کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا: عامر بن ربیعہ پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور اس پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جب تم نے وہ چیز دیکھی ، جو تمہیں اچھی لگی ، تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں دی ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غسل کرو ! انہوں نے اپنے چہرے دونوں بازؤں ، دونوں کہنیوں ، دونوں گھٹنوں ، پاؤں کے کناروں اور تہبند کے اندرونی حصے کو ایک پیالے میں دھویا ، پھر وہ پانی ان صاحب پر ڈال دیا گیا ، وہ اُن صاحب کے سر اور ان کی پشت پر ڈالا گیا ، پھر پیالہ ان کے پیچھے رکھا گیا اور وہاں بھی ایسا کیا گیا ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ، یوں جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف لاحق نہیں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے اس پانی کو پیا “ ۔