کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اثمد اور سرمہ لگانے کے نارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے سرموں میں ، سب سے بہتر اثمد ہے ، جو بال اُگاتا ہے ، اور بینائی تیز کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ ، فَإِنَّهُ مَنْبَتَةٌ لِلشِّعْرِ ، مَذْهَبَةٌ لِلْقَذَى ، مِصْفَاةٌ لِلْبَصَرِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
" عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ ، فَإِنَّهُ مَنْبَتَةٌ لِلشِّعْرِ ، مَذْهَبَةٌ لِلْقَذَى ، مِصْفَاةٌ لِلْبَصَرِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر اثمد استعمال کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ بالوں کو اُگانے والا ہے ، گندگی چیز کو لے جانے والا ہے ، اور بینائی کو صاف کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، ایک جماعت نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، کسی نے ان پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، ایک جماعت نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، کسی نے ان پر جرح نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - :
" إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسُنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
" إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسُنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص سرمہ لگائے ، تو وہ طاق تعداد میں لگائے ، جب ( استنجاء کرنے کے بعد ) ڈھیلے استعمال کرے ، تو طاق تعداد میں استعمال کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ :
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْتَحِلُ وِتْرًا .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْتَحِلُ وِتْرًا .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طاق تعداد میں سرمہ لگایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وضاح بن یحیی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وضاح بن یحیی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ :
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اكْتَحَلَ جَعَلَ فِي الْعَيْنِ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَفِي الْعَيْنِ الْيُسْرَى مِرْوَدَيْنِ ، فَجَعَلَهَا وِتْرًا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اكْتَحَلَ جَعَلَ فِي الْعَيْنِ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَفِي الْعَيْنِ الْيُسْرَى مِرْوَدَيْنِ ، فَجَعَلَهَا وِتْرًا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سرمہ لگاتے تھے ، تو دائیں آنکھ میں تین مرتبہ لگاتے تھے اور بائیں آنکھ میں دو مرتبہ لگاتے تھے آپ اسے طاق تعداد میں کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔