عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجَلَّالَةِ ، وَعَنْ شُرْبِ أَلْبَانِهَا ، وَأَكْلِهَا ، وَرُكُوبِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ الْهُجَيْمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ ( گندگی کھانے والے جانور ) کا گوشت کھانے ، اس کا دودھ پینے اسے کھانے اور اس پر سواری کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہجیمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہجیمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَنْ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ ،وَأَلْبَانِهَا ، وَظُهُورِهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ کا گوشت کھانے اس کا دودھ پینے اور اس پر سواری کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ نَصْرٍ اْلَمُحَارِبِيَّةِ قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجَلَّالَةِ ؟ فَقَالَ : " أَلَيْسَ تَرْعَى الْكَلَأَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ؟ " . لَعَلَّهُ قَالَ : بَلَى . قَالَ : " فَأَصِبْ مِنْ لُحُومِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام نصر محاربیہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جلالہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : کیا وہ گھاس نہیں چرتا اور درخت ( کے پتے ) نہیں کھاتا راوی کہتے ہیں : شاید دوسرے شخص نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر تم اس کا گوشت استعمال کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ بَقَرَةً انْقَلَبَتْ عَلَى خَمْرٍ فَشَرِبَتْ فَخَافُوا عَلَيْهَا فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كُلُوا وَلَا بَأْسَ بِأَكْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ عَنْ عُمَرَ ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ ، وَعُمَرُ إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَثْعَمٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ مَوْلَى عَفْرَةَ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک گائے شراب کے پاس آئی اور اس نے اس کو پی لیا لوگوں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا گوشت کھا لو اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بقیہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے بقیہ نامی راوی مدلس ہے عمر نامی راوی سے مراد اگر تو عمر بن عبداللہ بن خثم ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ، اور اگر اس سے مراد عفرہ کا غلام ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بقیہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے بقیہ نامی راوی مدلس ہے عمر نامی راوی سے مراد اگر تو عمر بن عبداللہ بن خثم ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ، اور اگر اس سے مراد عفرہ کا غلام ہے ، تو وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔